تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
تبدیلی کے بغیر انقلاب کا تصوّر ممکن نہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کہیں انقلاب آئے اور تبدیلی نہ آئے۔ تاریخ کے بڑے انقلابات ہمیشہ ہوم ورک یعنی خاموش کمروں، سماجی ذمہ داریوں اور معاشرتی توازن کی باریک تدبیروں میں پروان چڑھے ہیں۔ ساتویں صدی کا مکہ اسی نوع کا ایک انقلابی مرکز تھا۔ اگر اسے اُس عہد کا خطے کا سب سے حساس اور مؤثر مرکز کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ عرب کے تجارتی راستے، قبائلی اتحاد، مذہبی روایات اور معاشی مفادات سب اسی شہر میں ایک دوسرے سے گُندھے ہوئے تھے۔ ساتویں صدی کا شہرِ مکہ محض ریگزاروں میں گھرا ہوا ایک شہر نہ تھا، وہ عرب کے جغرافیے، تجارت، قبائلی سیاست اور مذہبی مرکزیت کا نقطۂ اتصال بھی تھا۔ یہاں قافلوں کی گرد بھی اٹھتی تھی اور بتکدوں کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔ یہ طاقت کی تمام مرئی و غیر مرئی رگوں کا سنگم تھا۔ یہ ایک ایسا مرکز تھا، جہاں سے ہونے والا کوئی ایک اعلان اطراف کے پورے نظام کو ہلا سکتا تھا۔
اسی منطقے میں ختمِ نبوّت کا علان ہوا۔ یہ اعلان کبھی خاموش کمروں میں اور کبھی مستضعف افراد کے صبر کی صورت میں، کبھی حضرت بلالؓ کی احد احد کی صدا بن کر اور کبھی حضرت عمّار یاسر ؓ کی سرگوشی بن کر گونجتا رہا۔ اُس زمانے میں ختمِ نبوت پر ایمان لانا ہماری طرح فقط کلمہ پڑھنا نہیں تھا۔ اُس وقت ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کا مطلب دراصل اللہ کے آخری نبیؐ کی حرمت، بقا اور تحفظ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لینا تھا۔ تاریخ میں کہیں اگر ایسے ایمان کی عملی تفسیر تلاش کرنی ہو تو حضرت ابو طالبؑ ؑ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیجئے۔ ان کے ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کی کیفیّت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اُس شہر کی فضا کو محسوس کیا جائے کہ جس کے دامن میں حضرت ابو طالبؑ نے نبی ؐ کیلئے دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج قائم کیا۔
ایسے شہر میں عامُ الفیل سے پینتیس برس قبل ایک طفل پیدا ہوا، جسے تاریخ نے حضرت ابو طالبؑ کے نام سے محفوظ کیا۔ ان کے والد عبدالمطلبؑ قریش کے رئیس تھے۔ انہی کے وصال کے بعد جب محمدﷺ کی عمر آٹھ برس تھی تو اُن کی کفالت کی ذمہ داری حضرت ابو طالبؑ کے سپرد ہوئی۔ یہ کفالت جہاں ایک خاندانی ذمہ داری وہیں یہ ایک الہیٰ امانت کی حفاظت بھی تھی۔ ایسی امانت جو آنے والے زمانوں کے لیے آخری نبوت کی صورت میں ظاہر ہونے والی تھی۔ جب حضرت محمدﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو یہ طاقت کے توازن میں ایک گہری لرزش تھی۔ اس سے مکّے میں ایک نئی دعوت اُبھری۔ توحید کا نعرہ بلند ہوا اور اب اس پیغام کو اپنی تبلیغ و بقا کیلئے محض لوگوں کے ایمان لانے کی نہیں، بلکہ تحفظ کی ضرورت بھی تھی۔ ایسی فضا میں حضرت ابو طالبؑ نے اپنے بھتیجے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر چاہا۔ سفر ہو یا حضر، دونوں ساتھ ساتھ رہے۔
بُصریٰ کے سفر میں راہب بحیرا کے سامنے حضرت ابو طالبؑ نے حضورؐ کو اپنا بیٹا کہا۔یہ محبت فقط چچا اور بھتیجے کی محبت نہ تھی۔ پھر وہ لمحہ آیا، جب محمدﷺ کا منصبِ نبوّت اہلِ مکہ کیلئے چیلنج بن گیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ رہی ہے اور اب ہدایت کی آخری کڑی ظاہر ہوچکی ہے۔ ختمِ نبوت کا تقاضا تھا کہ اس پیغام کو تحفظ ملے اور اس تحفظ کیلئے کوئی ڈھال درکار تھی۔ وہ ڈھال حضرت ابو طالبؑ ؑ بنے۔ انہوں نے طاقت کی مختلف اکائیوں قبائلی وقار، سماجی اثر، مذہبی مقام اور اخلاقی اعتبار کو اس مہارت سے ہم آہنگ رکھا کہ ایک نوزائیدہ تحریک کو سانس لینے کی مہلت مل گئی۔ اُس وقت اگر قریش کی مذکورہ بالا اکائیاں بکھر جاتیں تو پھر دشمن کئی سمتوں سے حملہ آور ہوسکتے تھے۔ حضرت ابو طالبؑ نے ایک طرف پیغمبرﷺ کا دفاع کیا اور دوسری طرف قریش کے داخلی اتحاد کو ٹوٹنے نہ دیا۔ یوں اختلاف کو تصادم میں بدلنے سے روکا۔ یہی وہ حکمتِ عملی تھی، جس نے خطرات کو محدود رکھا اور دشمنی کو چاروں طرف سے حملہ کرنے کی مہلت نہیں دی۔
قریش کی دھمکیاں، لالچ، دباؤ۔۔۔ سب سامنے آئے۔ کبھی کہا گیا کہ دعوت چھوڑ دو، کبھی متبادل پیش کیے گئے، کبھی قتل کی سازشیں ہوئیں۔ یہ سب اپنی جگہ جاری رہا، لیکن حضرت ابو طالبؑ نے قریش کے دباؤ کا قبائلی روایات سے مقابلہ کیا۔ جب مسلمانوں پر معاشی پابندیاں لگائی گئیں تو حضرت ابو طالبؑ نے شعبِ ابیطالب میں داخلی وسائل کو بروئے کار لا کر خود انحصاری کی مثال قائم کی۔ جب بھی شدت پسندی کا اندیشہ پیدا ہوا تو انہوں نے سفارتی نرمی اختیار کر لی۔ حضرت ابو طالبؑ کی مزاحمت و استقامت جامد نہ تھی۔ وہ حالات کے مطابق اپنی سفارت کاری کو جاری رکھتے تھے۔ کبھی رعب سے، کبھی دلیل سے اور کبھی خاموشی سے۔ انہوں نے بنو ہاشم کو نبی ؐ کے گرد ایک دفاعی دیوار کی شکل میں کھڑا کر دیا۔ ایسی دفاعی دیوار جسے گرانے کی قیمت سارے قبائل کو چکانی پڑتی۔
انہوں نے اپنی مدبرانہ سفارت کاری کے ذریعے بنو ہاشم کو جمع کرکے حضورؐ کے لئے ایک مضبوط اور غیر لچکدار دفاعی حصار تشکیل دے دیا۔ اس دوران مکے میں قبائلی توازن کو بھی برقرار رکھا، تاکہ دعوت کا عمل مسلسل جاری رہے۔ وقت آگے بڑھتا رہا اور نت نئے امتحانات سامنے آتے رہے۔ انہوں نے شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں فاقے برداشت کیے، لیکن امتحانات میں کبھی رسولﷺ کی حوصلہ افزائی و سرپرستی سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے اِن تین سالوں کے دوران داخلی روابط اور عزم و ہمّت سے مسلمانوں کی جماعت کو قائم رکھا۔ انہوں نے اس بحران میں ایک بہترین قائد ہونے کا ثبوت دیا۔ آپ کی مدبرانہ قیادت کی بدولت بغیر کسی رسمی معاہدے یا تحریری دستور کے شعب ابیطالب کا محاصرہ ختم ہوا۔
قریش کی اندرونی تمام تر مشکلات کے باوجود حضرت ابو طالبؑ قریش کے سب سے بڑے سردار تھے۔ ان کی شخصیت ایک اخلاقی اتھارٹی تھی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مخالفین اپنی حدود میں رہنے پر مجبور رہے اور قریش کا غیض و غضب ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کی قیادت و حکمت کا مرکز ایک ہی تھا کہ رسولِ خداﷺ کا تحفظ ہر قیمت پر ہونا چاہیئے۔ چنانچہ انہوں نے قریش کے قدیم نظام کو یکدم منہدم کرنے کے بجائے اسی نظام کے اندر شمع نبوّت کے روش ہونے کی جگہ بنائی۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت بہترین سفارتکاری تھی۔ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتے، لیکن مخالفین کو کسی مشترکہ نتیجے پر نہ پہنچنے دیتے۔ قریش جانتے تھے کہ اگر حضرت ابو طالبؑ کو راستے سے ہٹا دیا جائے تو پیغمبرﷺ تک پہنچنا آسان ہو جائے گا، لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے سارا قبائلی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
مقامِ تعجب ہے کہ قریشِ مکّہ جس شخص کے خون کے پیاسے تھے، اُس کی موجودگی اُن کیلئے ناگزیر بن گئی تھی۔ جب بعثت کے دسویں سال میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور چند ہی دن بعد حضرت خدیجہ بنت خویلدؑ بھی دنیا سے چلی گئیں تو اس سال کو نبی ؐ کی طرف سے “عامُ الحزن” کہا گیا۔ ان کی رحلت نے واضح کر دیا کہ تحریکیں صرف نظریات کے سہارے آگے نہیں بڑھتیں، انہیں پس منظر میں موجود مدبر نگہبانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام اگر اپنی ابتدائی ساعتوں میں محفوظ رہا تو اس کے پیچھے کسی لشکر یا فوج کی محافظت نہ تھی، بلکہ ایک مردِ دانا کی خاموش بصیرت تھی۔ حضرت ابو طالبؑ نے قدیم دنیا کو توڑے بغیر اسی کے اندر ایک نئی دنیا کیلئے جگہ پیدا کی۔ وہ عبوری عہد کے معمار تھے۔ ایسے معمار جنہوں نے اپنے وقار، تدبر اور اخلاقی قوت سے ختمِ نبوّت کے چراغ کو آندھیوں سے بچائے رکھا۔
حضرت ابو طالبؑ نے کوئی سلطنت قائم نہیں کی، کوئی لشکر کشی نہیں کی، کوئی فرمان جاری نہیں کیا۔۔۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ایک ایسی دعوت کو زندہ رکھا کہ جس نے انسانی تہذیب و تمدّن کا رخ بدل دیا۔ حضرت ابو طالبؑ ہمیں یہ سبق دے کر گئے کہ دفاع کی سب سے مضبوط دیوار وہ ہوتی ہے، جس پر نام نہیں لکھا جاتا اور سب سے بڑی قربانی وہ ہوتی ہے، جس کا دعویٰ نہیں کیا جاتا۔ کبھی کبھی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن کردار وہ ہوتا ہے، جو خود مرکز میں نہیں ہوتا، لیکن وہ مرکز کو گرنے نہیں دیتا۔ حضرت ابو طالبؑ نے ہمیں سکھایا کہ ختمِ نبوّت پر ایمان یہ ہے کہ ہر لمحے دُعا اور دفاع کے ساتھ رسولؐ کی ہمراہی کی جائے۔
The post حضرت ابو طالبؑ۔۔۔ دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


