شیعہ نیوز: سیاسی امور ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے ایران کے خلاف جنگ کو بہت بڑا جوا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جنگ چھڑی تو اسے روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
اپنے ایک انٹرویو میں نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کے ایٹمی مسئلہ کوئی فوجی حل نہیں ہے لہذا سفارت کاری پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جس سے سب کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ پسندی اور خطے میں فوج اور بحری بیڑے بھیجنے کے بجائے سفارت کاری پر توجہ مرکوز کرنا بہتر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : شام میں سیکورٹی چوکی پر دہشت گرد تنظیم داعش کا حملہ، چار اہلکار ہلاک
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم جنیوا میں بات چیت کو آگے بڑھائيں گے اور معاہدے کے حصول تک بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جلد از جلد ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں اور اس مقصد کے لیے جو بھی ضروری ہوا انجام دیں گے۔
مجید تخت روانچی نے کہا کہ ایرانی وفد پوری نیک نیتی اور مثبت سوچ کے ساتھ جنیوا جارہا ہے اور امید ہے کہ امریکہ کی طرف سے اسی طرح نیک نیتی اور مثبت سوچ کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی عزم کا مظاہرہ کیا جائے تو فوری طور پر کسی سمجھوتے کا حصول ممکن ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جمعرات کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات صرف اور صرف ایٹمی معاملے تک محدود ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ہم سے خاموش رہنے کی امید کیسے کر سکتے ہیں؟ یقینا ہم خطے میں امریکی اثاثوں اور مفادات کو نشانہ بنائيں گے۔
لیکن ہماری اصل ترجیح امن کی طرف بڑھنا ہے لہذا آئندہ جنیوا مذاکرات بہت اہم ہیں۔
The post سفارت کاری سے سب کو فائدہ ہوگا، جنگ بہت بڑا جوا ہے، مجید تخت روانچی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


