شیعہ نیوز: وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے نیشنل ریڈیو این پی آر سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہماری پوری توجہ مسلط کی گئی ظالمانہ جنگ میں اپنے عوام کے دفاع پر مرکوز ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے قومی ریڈیو این پی آر کے ساتھ بات چیت میں، مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم دوبار امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران جارحیت کا نشانہ بنے ہیں بنابریں اب ہماری پوری توجہ اپنے عوام کے دفاع پر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم پر حملہ کیا گیا ہے، یہ ظالمانہ جنگ ہے جو ہم پر مسلط کی گئی ہے اور اس جنگ میں استقامت، پائیداری اور اس بے انصافی کا مقابلہ، ہماری اسٹریٹیجی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور اس وقت خطے میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران نے ٹرمپ کی پیشکش مسترد کردی
انھوں نے کہا کہ ان حالات میں ہمارے سامنے کون سا راستہ باقی بچا ہے؟ ہم اپنے عوام اور شہریوں کا دفاع کررہے ہیں۔
ہم جوابی حملے پر مجبور ہیں۔ ہماری تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ اپنا دفاع کریں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اور دنیا بھر کی حکومتوں کو ان خطرات کی جانب سے ہوشیار رہنا چاہئے جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے نے پیدا کئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر یہ اصول بن گیا کہ ہر ملک جس قوم سے بھی ناراض ہو، خود کو اس پر حملہ کرنے کا مجاز قرار دے اور اس ملک کے رہنماؤں کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے تو بہت تیزی کے ساتھ دنیا میں جنگل کا قانون رائج ہوجائے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائيل ایران کے خلاف جو جارحیت کررہے ہیں، وہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین پر حملہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ حالیہ جارحیت کے ابتدائی لمحات میں ایران کے جنوبی شہر میناب کے ایک گرلس اسکول پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں 158 سے زیادہ معصوم اسکولی بچیاں شہید ہوگئيں اور بعض اب بھی ملبے کے نیچے ہیں۔
The post ہماری پوری توجہ اس ظالمانہ جنگ میں اپنے عوام کے دفاع پر ہے، اسماعیل بقائی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


