مجھے دینیات نہیں آتی تھی جب پڑھنے بیٹھتا چیزیں اور واقعات آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے اور میں کتاب بند کر دیتا مگر شکریہ اس چھیاسی سالہ معذور بوڑھے ایرانی شخص کا جس نے جاتے جاتے ایک ہی رات میں مجھ ناقص العقل “احمد افتخار قیصرانی” کو پورا دین اور ساری دینیات سکھا دی …
کافر کون ہے مسلمان کون ہیں یہ زندگی کیا ہے یہ موت کیسی ہے شہادت اور مرنے میں کیا فرق ہے یہ شیعہ سنی کون ہیں سادات کسے کہتے ہیں نسلی اور نقلی سادات میں کیا فرق ہے کربلا کیسی تھی حسین کون تھا یزید کون تھا بیعت کس چیز کا نام ہے بغاوت کسے کہتے ہیں دریائے فرات پر پہرے کیوں تھے پابندیاں کون لگاتا ہے ہجرت کسے کہتے ہیں پیاس کس شیے کا نام ہے خیمہ کسے کہتے ہیں خیمہ بدلنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں شمر کون تھا جبیب بن مظاہر کون تھا اور عباس اور علم کس شیے کی علامت اور سیاہ کپڑوں میں ملبوس یہ صدیوں کے ماتمی لوگ کون ہیں یہ سب کچھ اس بوڑھے شخص اور اسکے ساتھیوں نے ایک ہی رات میں بغیر دیا بجھائے مجھے دکھا دیا … شکریہ
میری طرح دینیات کے طلبا کے ساتھ ساتھ امام خامنائی شہید نے تاریخ کے طلبہ کے لیے بھی سیکھنے اور سمجھنے کے لیے بہت کچھ چھوڑا ہے کہ ارتغل کون تھا یہ اردلی کون ہیں حکومتیں کہاں بنتی ہیں یہ حکومتیں کہاں بدلتی ہیں اقتدار کون دلاتا ہے غدار کیسے ہوتے ہیں تخت کیوں الٹتے ہیں زندان کیوں سجتے ہیں عدالتیں کون کھولتا ہے اور ایجنٹ اور انکے اصلی یار کیسے ہوتے ہیں اپنی شہادت سے امام خامنائی شہید یہ سارے عقدے اور سب نقابیں الٹ گیا …
یہ 86 سالہ بوڑھا مزید کتنا جی لیتا اور کیا ایسے شخص کو شہادت کے سوا کوئی موت جچتی بھی تھی کہ حسین تو صرف ستاون سال کی عمر میں تین روز کی پیاس اور چند ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے تھے مگر …
رسم شبیری اور عشق حسین اور حب علی میں یہ بوڑھا تو اپنا سارا کنبہ چھیاسی سال کی عمر میں پچاس سال کی پابندیوں اور صدیوں کی پیاس کے ساتھ لاکھوں جانثاروں سمیت لٹا گیا سو اس صدیوں کے بےآرام بوڑھے کو اب آرام کرنے دو کہ اگلی سحری اسے اپنے نانا کے ھاتھوں اب کوثر سے کرنی ہے اور ہاں شکریہ امام کہ …
تم نے ایک ہی صفحے پر پورا دین لکھ دیا لہذا میں اگر اپنا مسلک نہ بھی بدلوں تو آج سے حر بن یزید ریاحی کی طرح اخری رات ہی صحیح لشکر ضرور بدلوں گا کہ الحمدللہ میں بھی آج سے مولائی ہوں حسینی ہوں اور کربلائی ہوں … الحمدللہ
اے مرے دوست مجھے دیکھ میں ہارا تو نہیں ہوں
میرا سر بھی تو پڑا ہے ، مری دستار کے ساتھ
تحریر : احمد افتخار قیصرانی
مجھے دینیات نہیں آتی تھی جب پڑھنے بیٹھتا چیزیں اور واقعات آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے اور میں کتاب بند کر دیتا مگر شکریہ اس چھیاسی سالہ معذور بوڑھے ایرانی شخص کا جس نے جاتے جاتے ایک ہی رات میں مجھ ناقص العقل “احمد افتخار قیصرانی” کو پورا دین اور ساری دینیات سکھا دی …


