شیعہ نیوز: عرب چینل کے مطابق جنگ کے آغاز سے تمام خبریں اور ویڈیوز اسرائیلی فوج کی منظوری کے بغیر نشر نہیں کی جاسکتیں۔
رپورٹ کے مطابق، الجزیرہ انگلش نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل میں جنگ کے آغاز سے ہی سخت میڈیا سنسرشپ نافذ ہے تاکہ ایران اور حزب اللہ کے حملوں سے متعلق معلومات عوام تک نہ پہنچ سکیں۔
الجزیرہ کے نامہ نگار کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل میں عملی طور پر میڈیا پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور تمام خبریں، تصاویر اور ویڈیوز اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ کوئی بھی مواد شائع کرنے سے پہلے اسے فوجی حکام کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں امارات ملوث ہے، عراقی مقاومت
رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں صرف غیر ملکی میڈیا تک محدود نہیں بلکہ اسرائیلی صحافی بھی انہی قواعد کے پابند ہیں۔ اگر وہ کسی حملے یا نقصان کی تصویر یا ویڈیو جاری کرتے ہیں تو واضح طور پر لکھتے ہیں کہ یہ مواد اسرائیلی فوج کی منظوری کے بعد شائع کیا گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس سخت کنٹرول کا مقصد جنگ کے دوران ہونے والے حملوں اور نقصانات کی معلومات کو محدود رکھنا اور عوامی سطح پر ان کی تشہیر کو روکنا ہے۔
The post اسرائیل میں ایران اور حزب اللہ کے حملوں کو چھپانے کے لیے میڈیا سنسرشپ، الجزیرہ کا انکشاف appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


