spot_img

ذات صلة

جمع

آبنائے ہرمز ایران کی خصوصی ملکیت ہے: حکومت کی ترجمان

ماسکو/ ارنا- حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے روس...

امریکی وزیر جنگ کو مؤاخذہ کرنے کا سلسلہ شروع؛ ہیگسیتھ کو 5 جرائم کا سامنا

تہران/ ارنا- واشنگٹن میں سیاسی کشیدگی بڑھتی جا رہی...

امریکی وزیر جنگ کو مؤاخذہ کرنے کا سلسلہ شروع؛ ہیگسیتھ کو 5 جرائم کا سامنا

تہران/ ارنا- واشنگٹن میں سیاسی کشیدگی بڑھتی جا رہی...

آبنائے ہرمز ایران کی خصوصی ملکیت ہے: حکومت کی ترجمان

ماسکو/ ارنا- حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے روس...

آبنائے ہرمز ایران کی خصوصی ملکیت ہے: حکومت کی ترجمان

ماسکو/ ارنا- حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے روس...

اسرائیل نےجنگ بندی معاہدے کی 10 ہزار بار خلاف ورزی کی، مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں، شیخ نعیم قاسم

شیعہ نیوز: لبنانی اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ 15 ماہ گزرنے کے باوجود اسرائیل نے 27 نومبر سنہ 2024ء کے معاہدے کی کسی بھی شق پر عمل درآمد نہیں کیا۔

شیخ نعیم قاسم نے پیر کی شام ایک ٹیلی ویژن خطاب میں واضح کیا کہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی 10 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جن کے نتیجے میں تقریباً 500 شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے جبکہ ان کے گھروں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ امریکہ کی پشت پناہی میں لبنان پر جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث بارہا کیے گئے وعدوں کے باوجود سفارتی راستہ کوئی بھی قابل ذکر پیش رفت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 2 مارچ سنہ 2026ء کو دیے گئے جواب کے وقت نے اس وسیع تر جارحانہ منصوبے کو بے نقاب کر دیا جو لبنان کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس بروقت جواب نے اسرائیل سے اچانک حملے کا عنصر چھین لیا جس سے ممکنہ نقصانات میں کمی آئی۔

یہ بھی پڑھیں : آپ مسیحیت کے حقیقی مشن پر وفادار رہے ، آیت اللہ اعرافی کا پوپ لیو کے انسانی مؤقف پر شکریہ

شیخ نعیم قاسم نے بیان کیا کہ ان کے تخمینے کے مطابق اس جارحیت کا مقصد لبنان اور اس کی مزاحمت کی قوت کو ختم کرنا ہے تاکہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر کڑی تنقید کی کہ لبنانی ریاست کو اسرائیلی پالیسیوں کے نفاذ کے آلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور صہیونی و امریکی بیانات کا مقصد لبنانی فوج کو اس لیے مضبوط کرنا ہے تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کر کے اس کا کردار ختم کیا جا سکے۔

مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے قابض اسرائیل کے ساتھ کسی بھی براہ راست مذاکرات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے اطاعت اور ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کا پہلے سے طے شدہ مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور قابض اسرائیل کے ساتھ نام نہاد امن معاہدہ کرنا ہے۔

انہوں نے مذاکراتی عمل کو منسوخ کرنے کے حوالے سے فیصلہ کن موقف اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور جارحیت روکنے کے لیے پانچ بنیادی نکات پیش کیے جن میں زمین، سمندر اور فضا میں مکمل سیز فائر کا اعلان، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے فوری انخلا، اسیران کی رہائی، سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کی واپسی اور بین الاقوامی تعاون سے تعمیر نو کے عمل کا آغاز شامل ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی دوسرے معاملے پر بات کرنے سے قبل ان مطالبات پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے یقین دلایا کہ جارحیت کا تسلسل ملک کو دو ہی راستوں کے سامنے کھڑا کرتا ہے یعنی مقابلہ یا ہتھیار ڈالنا اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے آپشن کو مسترد کرتے ہوئے مقابلہ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے میدانِ جنگ میں حزب اللہ کے مجاہدین کی کارکردگی کو افسانوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا عزم اور بہادری دشمنوں کے لیے مسلسل پریشانی اور خوف کا باعث ہے۔

The post اسرائیل نےجنگ بندی معاہدے کی 10 ہزار بار خلاف ورزی کی، مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں، شیخ نعیم قاسم appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img