spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی وکیل: ایران کے خلاف جنگ جرم و جارحیت ہے

تہران- ایرنا – ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی...

خطیب زادہ: ایران کی تمام تجاويز منصفانہ

تہران-ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے...

خطیب زادہ: ایران کی تمام تجاويز منصفانہ

تہران-ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے...

صدرمملکت: کوشش ہے کہ جنگ ‘عزت، حکمت اور مصلحت’ کے ساتھ ختم ہو

تہران- ایرنا – صدر مملکت نے جنگی حالات کی...

صدرمملکت: کوشش ہے کہ جنگ ‘عزت، حکمت اور مصلحت’ کے ساتھ ختم ہو

تہران- ایرنا – صدر مملکت نے جنگی حالات کی...

عشرۂ کرامت (1 تا 11 ذی القعدہ) اہلِبیتؑ کی محبت، علم اور کرامتوں کا درخشاں باب

شیعہ نیوز: اسلامی سال کے بارہ مہینوں میں بعض ایام ایسے ہیں، جو اپنی روحانیت، برکت اور تاریخی اہمیت کے اعتبار سے خاص مقام رکھتے ہیں۔ انہی مبارک ایام میں 1 سے 11 ذی القعدہ تک کا زمانہ بھی شامل ہے، جسے “عشرۂ کرامت” کہا جاتا ہے۔ یہ دس دن دراصل اہلِ بیتؑ کی دو عظیم شخصیات، یعنی حضرت فاطمہ معصومہ اور امام علی رضا کی ولادت باسعادت سے منسوب ہیں۔ ان ہستیوں کی ولادت نہ صرف تاریخ اسلام کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ آج بھی ان کی تعلیمات انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ عشرۂ کرامت ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اہلِ بیتؑ کی سیرت، ان کے اخلاق، ان کی عبادات اور ان کی علمی خدمات کو یاد کریں اور اپنی زندگیوں میں ان اصولوں کو اپنانے کی کوشش کریں۔

عشرۂ کرامت کی وجۂ تسمیہ
“کرامت” کے معنی ہیں بزرگی، شرافت، سخاوت اور عظمت۔ ان دس دنوں کو عشرۂ کرامت اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایام اہلِ بیتؑ کی ان ہستیوں سے وابستہ ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیوں میں کرامت، علم، صبر اور تقویٰ کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا۔ یہ عشرہ دراصل یکم ذی القعدہ کو حضرت معصومہؑ کی ولادت سے شروع ہوتا ہے اور 11 ذی القعدہ کو امام رضا علیہ السلام کی ولادت پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خضدار ، بزدل دہشت گردوں کی فائرنگ سے لیڈی کانسٹیبل سمیت 2 اہلکار شہید

حضرت فاطمہ معصومہؑ کی ولادت و سیرت
حضرت فاطمہ معصومہ کی ولادت یکم ذی القعدہ 173 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی بیٹی اور امام علی رضا کی ہمشیرہ تھیں۔ آپ بچپن ہی سے علم، تقویٰ اور عبادت میں ممتاز تھیں۔ آپ کا لقب “معصومہ” آپ کی پاکیزگی اور طہارت کی دلیل ہے۔ آپ نے اپنے والد اور بھائی سے علم حاصل کیا اور دینی مسائل میں آپ کی گہری بصیرت تھی۔

علمی مقام
حضرت معصومہؑ نہایت بلند علمی مقام رکھتی تھیں۔ روایت ہے کہ جب امام کاظمؑ گھر پر موجود نہ ہوتے تو لوگ سوالات لے کر آتے اور آپ ان کے جوابات دیتی تھیں۔ یہ آپ کے علمی کمال کا واضح ثبوت ہے۔

ہجرت اور وفات
جب امام علی رضا کو خراسان بلایا گیا تو آپ ان کی محبت میں مدینہ سے روانہ ہوئیں، لیکن راستے میں بیمار ہوگئیں اور قم میں وفات پائی۔ آج آپ کا مزار قم میں مرجعِ خلائق ہے اور لاکھوں زائرین یہاں حاضری دیتے ہیں۔

امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت و سیرت
امام علی رضا کی ولادت 11 ذی القعدہ 148 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ اہلِ بیتؑ کے آٹھویں امام ہیں اور آپ کی زندگی علم، حلم، عبادت اور خدمتِ انسانیت سے عبارت ہے۔

علمی مقام
امام رضا علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے۔ آپ نے مختلف مذاہب کے علماء کے ساتھ علمی مناظرے کیے اور ہر میدان میں حق کا دفاع کیا۔

اخلاق و کردار
آپ کا اخلاق بے مثال تھا۔ دشمن بھی آپ کے حسنِ سلوک سے متاثر ہوتے تھے۔ آپ غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتے اور راتوں کو خفیہ طور پر صدقہ دیتے تھے۔

ولایت عہدی
عباسی خلیفہ مامون الرشید نے آپ کو ولی عہد بنایا، لیکن آپ نے اس منصب کو دنیاوی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اسلام کی خدمت جاری رکھی۔

عشرۂ کرامت کی روحانی اہمیت
عشرۂ کرامت دراصل روحانی تربیت کا ایک سنہری موقع ہے۔ ان دنوں میں: اللہ کی عبادت کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ اہلِ بیتؑ کی محبت کو تازہ کیا جاتا ہے۔ گناہوں سے توبہ کی جاتی ہے۔ اخلاقی اصلاح کی جاتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی کامیابی اللہ کی رضا اور اہلِ بیتؑ کی پیروی میں ہے۔

معاشرتی پہلو
عشرۂ کرامت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک مضبوط معاشرتی پہلو بھی ہے۔

خدمتِ خلق
ان دنوں میں غریبوں، یتیموں اور محتاجوں کی مدد کی جاتی ہے۔ یہ اہلِ بیتؑ کی سیرت کا اہم حصہ ہے۔

محبت و اخوت
لوگ آپس میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں، جو ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔

علم کی ترویج
مساجد، مدارس اور مجالس میں اہلِ بیتؑ کی تعلیمات بیان کی جاتی ہیں، تاکہ نئی نسل کو صحیح رہنمائی ملے۔

خواتین کے لیے پیغام
حضرت معصومہؑ کی سیرت خواتین کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ علم حاصل کرنا خواتین کے لیے ضروری ہے۔ پاکیزگی اور حجاب عزت کا ذریعہ ہیں۔ دین کی خدمت میں خواتین بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

نوجوانوں کے لیے پیغام
امام رضا علیہ السلام کی سیرت نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے: علم کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا، صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ حق کے راستے پر ثابت قدم رہے۔ نوجوان اگر ان اصولوں کو اپنائیں تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

عشرۂ کرامت اور عصرِ حاضر
آج کے دور میں جہاں مادیت پرستی اور اخلاقی زوال عام ہے، عشرۂ کرامت ہمیں ایک نئی راہ دکھاتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ روحانی ترقی بھی ہے۔ علم اور اخلاق کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات آج بھی اتنی ہی اہم ہیں، جتنی پہلے تھیں۔

عبادات اور اعمال
عشرۂ کرامت میں درج ذیل اعمال کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ نمازوں کی پابندی۔ قرآن کی تلاوت۔ درود و سلام کا ورد۔ صدقہ و خیرات۔ مجالس اور محافل میں شرکت۔

عشرۂ کرامت کا عالمی اثر
دنیا بھر میں جہاں جہاں شیعہ اور اہلِ بیتؑ سے محبت رکھنے والے لوگ موجود ہیں، وہاں عشرۂ کرامت نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ خاص طور پر قم اور مشہد میں عظیم اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔

نتیجہ
عشرۂ کرامت دراصل اہلِ بیتؑ کی محبت، علم اور اخلاق کا ایک جامع پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں اور اہلِ بیتؑ کی سیرت کو اپنا رہنما بنائیں۔ حضرت فاطمہ معصومہ اور امام علی رضا کی زندگیاں ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ علم، تقویٰ، صبر اور خدمتِ خلق ہی کامیابی کا اصل راستہ ہیں۔ اگر ہم اس عشرے کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر نافذ کر لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بہتر ہوسکتی ہے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور عدل کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

The post عشرۂ کرامت (1 تا 11 ذی القعدہ) اہلِبیتؑ کی محبت، علم اور کرامتوں کا درخشاں باب appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img