شیعہ نیوز: دباؤ میں مذاکرات سے ایران کے انکار نے ٹرمپ کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا اور امریکہ کو ایک بار پھر پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے بارے میں حالیہ موقف کسی ایک وقتی فیصلے یا کسی مخصوص صورتحال کا نتیجہ نہیں ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں جو کچھ ہوا، وہ دراصل ٹرمپ کے ایک پرانے اور بار بار دہرائے جانے والے انداز کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طریقہ کار میں سخت دھمکیاں دی جاتی ہیں، دباؤ بڑھایا جاتا ہے، اور پھر جب فیصلہ کن وقت آتا ہے تو عقب نشینی کی جاتی ہے۔ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کا معاملہ بھی اسی رویے کی واضح مثال ہے۔
حالیہ دنوں میں ٹرمپ بار بار سخت لہجے میں یہ کہتا رہا کہ جنگ بندی اب ختم ہونے والی ہے۔ اس نے مسلسل ڈیڈ لائنیں دے کر ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی کہ ایران دباؤ میں آ کر امریکہ کی شرائط مان لے اور اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائے۔ اسی مقصد کے تحت سمندری محاصرہ بھی جاری رکھا گیا تاکہ ایران پر دباؤ مزید بڑھایا جاسکے۔ امریکی منصوبہ یہ تھا کہ ایران کے سامنے صرف دو راستے رہ جائیں: یا دباؤ میں مذاکرات کرے یا پھر بحران میں مزید شدت برداشت کرے۔
یہ بھی پڑھیں : جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، باقر قالیباف
امریکہ کا دباؤ اور ایران کا دو ٹوک جواب
لیکن کچھ ہی وقت بعد امریکہ کے اندازے ایران کی حقیقت پسندانہ حکمت عملی سے ٹکرا گئے۔ ایران نے واضح اعلان کیا کہ جب تک بحری محاصرہ ختم نہیں ہوگا، کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ یہ موقف ایران کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے کہ دباؤ اور دھمکی کے ماحول میں بات چیت قبول نہیں کی جائے گی۔ اسی وجہ سے امریکہ کی وہ کوشش ناکام ہو گئی جس کے ذریعے وہ دھمکیوں سے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا تھا۔
اس کے بعد ٹرمپ کا وہی پرانا انداز ایک بار پھر سامنے آگیا۔ جب دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے کے قریب پہنچی تو ٹرمپ کے سامنے دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی دھمکی پر عمل کرے اور کشیدگی بڑھا دے، جس کے نتائج غیر یقینی اور امریکہ کے لیے مہنگے ہو سکتے تھے۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ اپنے سخت بیانات سے پیچھے ہٹ جائے۔ آخرکار ٹرمپ نے پھر وہی کیا جو اکثر کرتا ہے، یعنی جنگ بندی میں یک طرفہ توسیع کا اعلان کر دیا۔
ٹرمپ کی پسپائی اور جنگ بندی میں توسیع کی وجہ
اسی رویے کو سیاسی حلقوں میں ایک مشہور جملے کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے کہ ٹرمپ ہمیشہ آخری وقت میں پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ پہلے سخت باتیں کرتا ہے، بڑا دباؤ بناتا ہے، لیکن جب حقیقی فیصلہ اور قیمت ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ قدم پیچھے کر لیتا ہے۔
اس رویے کی بنیادی وجہ ٹرمپ کی سوچ میں چھپی ہے۔ وہ خارجہ پالیسی کو ایک پیچیدہ سفارتی عمل نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک اسٹیج کی طرح دیکھتا ہے، جہاں صرف سخت بیانات اور دھمکیاں بھی کامیابی تصور کی جاتی ہیں۔ اسی لیے وہ ڈیڈ لائنیں دیتا ہے، جارحانہ زبان استعمال کرتا ہے اور طاقت کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر جب حقیقت میں خطرات اور نقصانات بڑھنے لگتے ہیں تو وہ ٹکراؤ کے بجائے اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں یک طرفہ توسیع کا اعلان کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ایران کے مضبوط مؤقف نے امریکی دباؤ کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ظاہر کر دیا کہ ٹرمپ چاہے جتنی سخت باتیں کرے، لیکن جب فیصلہ کن وقت آتا ہے تو وہ اکثر اپنی ہی دھمکیوں پر قائم نہیں رہ پاتا۔
ایران اور دیگر ممالک میں فرق
ایران کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ دنیا میں کچھ ممالک ایسے ہوتے ہیں جو نفسیاتی دباؤ یا معاشی پابندیوں کے سامنے جلدی جھک جاتے ہیں، لیکن ایران نے گزشتہ برسوں میں ایسی مضبوط ڈیٹرنس پیدا کر لی ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی جلد بازی یا غیر سوچے سمجھے اقدام کی قیمت بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہ صلاحیت صرف فوجی طاقت تک محدود نہیں، بلکہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے، جیسے خطے میں ایران کا اثر و رسوخ، اس کی معاشی طاقت، اور توانائی کے شعبے میں اس کی اہمیت۔ یہی چیزیں مل کر امریکہ جیسے فریق کے لیے فیصلہ کرنا مشکل اور خطرناک بنا دیتی ہیں۔
ایسی صورت حال میں دھمکی اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کے پیچھے واقعی عمل کرنے کا ارادہ اور طاقت موجود ہو۔ اگر یہ ارادہ نہ ہو تو دھمکی آہستہ آہستہ بے اثر ہو جاتی ہے اور پھر وہی دھمکی خود کمزوری بن جاتی ہے۔ ٹرمپ کے رویے میں یہی بات صاف نظر آتی ہے۔ جب وہ بار بار ڈیڈ لائن دیتا ہے اور پھر آخر میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتا تو اس کی دھمکی کی ساکھ کمزور پڑ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرا فریق پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ اس کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔
حالیہ جنگ بندی کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی واضح مثال ہے۔ ٹرمپ نے یہ کہہ کر کہ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی، دباؤ کو آخری حد تک پہنچانے کی کوشش کی۔ لیکن جب ایران نے اس کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا تو واشنگٹن کے پاس راستے محدود ہو گئے۔ اگر امریکہ کشیدگی بڑھاتا تو اس کے نتائج اس کے کنٹرول سے باہر جا سکتے تھے، جیسے عالمی توانائی منڈی میں بڑا بحران، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، یا خطے میں جنگ کا پھیل جانا۔ اس کے مقابلے میں جنگ بندی میں توسیع اگرچہ سیاسی طور پر امریکہ کے لیے شرمندگی کا باعث تھی، مگر اس میں خطرہ نسبتاً کم تھا۔
ٹرمپ کی متلون مزاجی اور اس کے نتائج
آخر میں ٹرمپ کے فیصلے نے یہ ثابت کر دیا کہ اس کے لیے طاقت کا مظاہرہ کرنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ بڑے نقصانات اور خطرات سے بچا جائے۔ یعنی وہ اتنا ہی آگے بڑھتا ہے جہاں تک اسے لگے کہ حالات قابو میں رہیں گے، لیکن جیسے ہی خطرات حد سے بڑھنے لگتے ہیں، وہ اپنا موقف بدل لیتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ طرزعمل مستقبل میں بھی کئی اہم اثرات چھوڑ سکتا ہے۔
پہلی بات یہ کہ بار بار پیچھے ہٹنے سے امریکہ کی دھمکیوں کی ساکھ کمزور پڑسکتی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں اعتبار بہت بڑی چیز ہے۔ اگر دنیا کے دوسرے ممالک یہ سمجھنے لگیں کہ امریکی دھمکیاں ہمیشہ عملی کارروائی میں تبدیل نہیں ہوتیں تو وہ اپنی حکمت عملی اسی بنیاد پر ترتیب دیں گے۔
دوسری بات یہ کہ اس سے ایران جیسے ممالک کی مزاحمتی حکمت عملی مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔ جب ایران دیکھتا ہے کہ دباؤ کے سامنے ڈٹ جانے سے آخرکار امریکہ پیچھے ہٹ جاتا ہے تو اس کے اندر مزید ثابت قدم رہنے کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا سلسلہ بن جاتا ہے جس میں جتنا زیادہ مقابلہ کیا جائے، اتنا ہی زیادہ عقب نشینی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ ٹرمپ کا یہ انداز صرف ایران تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک بھی اس سے اپنے نتائج نکال سکتے ہیں۔ جو ملک حالات کو غور سے دیکھ رہے ہیں، وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ امریکہ کی اس پالیسی یعنی انتہائی دباؤ ڈال کر خطرناک صورتحال تک لے جانا، دراصل جنگ یا بڑے اقدام کی حقیقی تیاری نہیں بلکہ زیادہ تر ایک سودے بازی کا طریقہ ہے تاکہ دوسرے فریق سے رعایتیں لی جا سکیں۔ اگر دنیا میں یہ تاثر مضبوط ہوگیا تو دوسرے بین الاقوامی مسائل میں بھی ممالک امریکہ کی دھمکیوں کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ امریکہ بالکل بے اختیار ہے یا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن کے پاس دباؤ ڈالنے کے کئی ذرائع آج بھی موجود ہیں، جیسے پابندیاں، سفارتی دباؤ اور دوسرے سیاسی اقدامات۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان کو استعمال کرنے کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے ایسی صورتحال میں امریکہ کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے، تاکہ وہ اپنے مقاصد بھی حاصل کرے اور بڑے نقصان سے بھی بچ سکے۔ ٹرمپ کے انداز سے یہی لگتا ہے کہ وہ زیادہ تر بڑے خطرات مول لینے کے بجائے پیچھے ہٹنے کو ترجیح دیتا ہے۔
حاصل سخن
آخر میں کہا جاسکتا ہے کہ جنگ بندی میں دوبارہ توسیع کا واقعہ دراصل ٹرمپ کے اسی پرانے طریقہ کار کی ایک واضح مثال ہے جو پہلے بھی کئی بار سامنے آچکا ہے۔ پہلے وہ سخت دھمکیاں دیتا ہے اور دباؤ بڑھاتا ہے، پھر جب حقیقت کا سامنا ہوتا ہے اور خطرات بڑھنے لگتے ہیں تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جسے مختصر الفاظ میں کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ ہمیشہ آخری وقت پر پلٹ جاتا ہے اور جب تک طاقت دکھانے اور قیمت ادا کرنے کے درمیان یہی فرق باقی رہے گا، امکان یہی ہے کہ ٹرمپ کا یہ انداز مستقبل میں بھی بار بار دہرایا جاتا رہے گا۔
The post ٹرمپ کی دھمکیاں بے نتیجہ؛ جنگ بندی ختم کرنے کے دعوے بے اثر، توسیع کا فیصلہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


