شیعہ نیوز : اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں 13 شہری جام شہادت نوش کر گئے۔ حماس نے قرار دیا کہ یہ حالیہ کشیدگی سیز فائر معاہدے کے ضامنوں اور ثالثوں کی اس ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ قابض دشمن کے جرائم کو لگام دینے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
حماس تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں بمباری اور قتل و غارت کی رفتار میں اضافہ ثالثوں اور عالمی برادری کے کردار میں واضح عجز اور فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین جرائم کو روکنے کی ذمہ داریوں سے غیر منصفانہ پہلو تہی کو ظاہر کرتا ہے۔
حماس نے ان واقعات کو صہیونی ریاست کی خونی جارحیت اور ہر لحاظ سے مکمل جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس خونی روش اور بے مثال فسطائیت کی عکاسی ہے جو نتائج کی پرواہ کیے بغیر پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے برتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ، پنٹاگون کے قریب بس حادثہ، 23 افراد زخمی
تحریک نے عالمی برادری اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے فوری حرکت میں آئیں اور قابض اسرائیل کی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ سیز فائر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور بین الاقوامی انسانی قانون کے قواعد کا احترام کرے۔
حماس نے دنیا بھر کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل اور اس کے حامیوں پر عوامی دباؤ میں اضافہ کریں اور ہر قسم کی بائیکاٹ مہم کو تیز کریں تاکہ ان انسانیت سوز مظالم اور جرائم کو روکنے میں مدد مل سکے۔
واضح رہے کہ جمعہ کے روز شمالی اور جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں میں قابض اسرائیل کی فضائی اور توپ خانے کی بمباری کے نتیجے میں 13 شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
The post غزہ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت ثالثوں کی ناکامی کا ثبوت ہے، حماس appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


