شیعہ نیوز: اتحادِ امت فورم پاکستان، جو مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان، تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ، امامیہ آرگنائزیشن پاکستان، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اور دیگر شیعہ تنظیموں و دینی مدارس کے اشتراک سے وجود میں آیا، کے رہنماوں نے لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس میں 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں ”شہیدِ اُمت کانفرنس“ کے انعقاد کا باضابطہ اعلان کیا۔ پریس کانفرنس سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، مرکزی صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سید امین شیرازی، صدر تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ محمد تقی، جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے پرنسپل علامہ توقیر عباس، ادارہ منہاج الحسینؑ سے علامہ حسن رضا باقر،علامہ سید ظہیر الحسن نقوی(کربلا ٹی وی)، علامہ مشرف حسینی (لندن)،علامہ حسن رضا ہمدانی، اور امامیہ آرگنائزیشن پاکستان سے لعل مہدی خان نے خطاب کیا۔
رہنماوں نے ایران اور امریکہ کی موجودہ جنگ کو حق و باطل کے اٹل معرکے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس کٹھن گھڑی میں پوری امتِ مسلمہ کے لیے مزاحمت و استقامت کی ایک لازوال مثال رقم کی۔ رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر پاکستانی قوم کے ہر طبقے، بالخصوص اہلِسنت کے جلیل القدر علماء کرام نے جو بے مثال اور جذبات سے لبریز ردعمل ظاہر کیا، اس نے قرآنی وحدت کی ایک ایسی زندہ و تابندہ تصویر پیش کی جس کی نظیر تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ فورم نے اس امر کو کلی طور پر آشکار کر دیا کہ امریکہ اور اس کے ہمنوا اتحادیوں کے تمام کلیدی عزائم، خواہ وہ ایران میں رجیم چینج کا منصوبہ ہو، نظامِ ولایتِ فقیہ کا خاتمہ ہو یا پورے خطے میں مزاحمتی قوتوں کی سرکوبی، مکمل اور قطعی طور پر ناکام ہو چکے ہیں، اور یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ موجودہ جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے، جبکہ حقیقی جنگ عسکری و سفارتی دونوں محاذوں پر بدستور جاری ہے۔
انہوں ںے کہا کہ انہی تلخ حقائق کے پسِ منظر میں فورم نے اس امر پر زور دیا کہ یہ ایام پاکستان کی تاریخی فتح و کامرانی کے ایام ہیں۔ گزشتہ سال مئی میں جس لمحے بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے صیہونی اتحادیوں کے ہمراہ پاکستان کی سرزمین پر یلغار کرنے کی مذموم جسارت کی، تو اس وقت پاکستان کی عظیم اور غیرت مند ملت نے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ دشمن کو وہ منہ توڑ اور دندان شکن جواب دیا کہ تاریخ اسے ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں ںے کہا کہ یہ معرکۂ حق اور ”بنیانِ مرصوص“ کی قرآنی فتح و نصرت کے مبارک و مقدس ایام ہیں۔ رہنماوں نے پورے وثوق کیساتھ اس نکتے کو بھی اجاگر کیا کہ آج پاکستان کو درپیش چیلنجز کا تقاضا ملتِ پاکستان کا اتحاد ہے، امتِ مسلمہ کی مشکلات کا تقاضا پوری امت کا اتحاد و وحدت ہے، اور بعینہٖ اسی طرح مکتبِ تشیع کی مشکلات کا تقاضا یہ ہے، چاہے وہ پاکستان کی سرزمین ہو، ایران ہو، لبنان ہو یا عراق، کہ یہ ملت ایک ملتِ واحدہ، امتِ واحدہ اور حقیقی امتِ مسلمہ کی صورت میں ڈھل جائے۔
انہوں نےکہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ بعض فرقہ باز عناصر نے امت کی اس تاریخی بیداری کے موقع پر تفرقہ پھیلانے کی مذموم کوششیں تیز کر دی ہیں، مگر ان باطل پرستوں کی پرواہ کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ یہ تکفیری فرقہ اس موجِ بیداری کو ہرگز نہیں دبا سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر امام خامنہ ای کی شہادت کے اس عظیم ورثے کو، جس نے امت کو بیداری کے ایک نئے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے، آگے بڑھائیں۔ شہید نے امت کو جگایا ہے، متوجہ کیا ہے، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس بیدار اُمت کو متحد کریں، اسے ایک وحدت کے شاہکار میں پروئیں، اسے یکسو کریں اور اسے ایک ایسی یکجہت قوت میں بدل دیں جسے دنیا کی کوئی طاقت منتشر نہ کر سکے۔ رہنماوں نے اعلان کیا کہ ”آج ہمیں ساری دنیا کو یہ پیغام دے دینا ہے کہ اگر مودی جیسا ناپاک اور متکبر، پاکستان کی طرف ناپاک نگاہ اٹھائے، امریکہ کا ڈونلڈ ٹرمپ جیسا ناپاک کردار ایران کی جانب میلی آنکھ سے دیکھے، یا صیہونیوں جیسی ناپاک طاقت عالمِ اسلام پر غاصبانہ نگاہیں ڈالے، تو ان سب کو اپنے سامنے حسینیوں کی صف آرائی نظر آئے گی۔“
انہوں نے کہا کہ مینارِ پاکستان لاہور کے تاریخی اور روح پرور میدان پر ”بنیانِ مرصوص“ کی صورت میں ڈھل کر امتِ پاکستان اور تمام حسینیوں نے یہ عملی ثبوت فراہم کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور قطعی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام ناگزیر حقائق کی روشنی میں، فورم اپنے بنیادی اغراض و مقاصد کا اس طرح اعادہ کرتا ہے، جو اس تاریخی اعلامیے اور شہیدِ امت کانفرنس کی مشترکہ روحِ رواں ہیں۔ ہمارے نزدیک پاکستان کی جغرافیائی، نظریاتی اور آئینی سالمیت کا تحفظ اولین فرضِ عین ہے اور ہم عہد کرتے ہیں کہ ملکی خود مختاری پر آنچ ڈالنے والی کسی بھی سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ ہم ایران کی عوام، نظام اور قیادت کیساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے اس کے انقلاب اور مزاحمت کو اُمت کیلئے مشعلِ راہ سمجھتے ہیں، اور پاک-ایران برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں،صدرایم ڈبلیوایم جی بی سید علی رضوی
رہنماوں کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہم اصولی مزاحمت کو اپنا حق اور دینی فریضہ سمجھتے ہیں، اور کسی بھی دباؤ میں مفاہمت کو خیانت کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ امتِ مسلمہ کا اتحاد اور قرآنی وحدت ہمارے نزدیک واجبات میں سے ہے، لہٰذا ہم تمام مسالک کے درمیان مشترکہ عملی اقدامات کے فروغ کے لیے کوشاں رہیں گے تاکہ دشمن کی ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی کو ناکام بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی صفوں میں فروعی اختلافات سے بلند ہو کر ہم اصولِ ولایت اور مشترکہ اہداف پر متحد ہوں گے تاکہ امت کے اندر ہمارا کردار مؤثر اور منظم ہو۔ ہم فلسطین، لبنان، عراق، یمن، شام اور دیگر تمام اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ اپنی فکری، اخلاقی اور عملی وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں، اور مزاحمت کو ظلم کے خلاف واحد مؤثر حکمت عملی سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراج پیش کرتے ہوئے ہم ان کے خاندانوں کی سرپرستی اور ان کی یادوں کو زندہ رکھیں گے، کیونکہ انہی کے لہو سے امت کی تاریخ تابندہ ہے۔ شہیدِ امت کی شاندار قیادت اور قربانیوں کو خراج پیش کرتے ہوئے ان کی شہادت کو امت کے اتحاد کا مرکز بنانا ہے، اور مینارِ پاکستان پر یہ ثابت کرنا ہے کہ شیعہ و سنی ایک جان ہیں، ان کا دشمن ایک اور محاذ ایک ہے، تاکہ فرقہ وارانہ سازشوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو۔ اسی تاریخی مقام سے ہم امریکہ، اسرائیل اور ان کے حواریوں کی غاصبانہ پالیسیوں کے خلاف پاکستانی عوام کی متحدہ آواز بلند کریں گے۔ یہی لمحہ ہے کہ ہم قائداعظم کے نظریے کے مطابق پاکستان کو ظلم کے خلاف آخری دفاعی دیوار بنانے کا عہد کریں اور ایران کے خلاف جاری ہر سازش کے تناظر میں اپنے برادر ملک کے ساتھ غیر مشروط یکجہتی کا عملی پیغام دیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو شہدائے اسلام کے اسوۂ حسنہ سے روشناس کرانا اور انہیں فکری و ثقافتی یلغار کے مقابلے کے لیے تیار کرنا ہماری ترجیح ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، ہم اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ تقاریر اور بیانات کی حدوں سے آگے بڑھ کر، امت کے اتحاد، دفاعِ پاکستان اور عالمی استکبار کے خلاف عملی مزاحمت کے لیے ایک واضح، منظم اور حقیقت پسندانہ لائحہ عمل پیش کریں گے۔ یہ کانفرنس محض ایک روایتی اجتماع نہیں بلکہ ایک انقلاب آفریں فیصلے کی گھڑی ہوگی، جہاں پاکستان کے عوام یہ طے کریں گے کہ وہ ظلم کے سامنے جھکنے والوں میں سے نہیں، بلکہ شہداء کے پاکیزہ نقشِ قدم پر چلنے والے استقامت کے علمبردار ہیں۔
ملت جعفریہ پاکستان کے اتحاد و وحدت کا بے مثال مظاہرہ ہونے جا رہا ہے – مجلس وحدت مسلمین پاکستان، تحریک بیداری امت مصطفیؐ پاکستان ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ، امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کی میزبانی میں پوری ملت جعفریہ پاکستان اپنی طاقت کے اظہار کیلئے مینار پاکستان پر اکٹھی ہونے جا رہی ہے۔
The post اتحا امت فورم پاکستان کی جانب سے علامہ راجہ ناصرعباس نے مینارپاکستان پر ”شہیدِ اُمت کانفرنس“ کا اعلان کردیا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


