شیعہ نیوز: انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ کے محصور عوام کے لیے جانے والی امدادی کشتیوں کو روکنا اور وہاں جانے والے کارکنوں کو قید کرنا غیر انسانی عمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صہیونی بحریہ کی جانب سے غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی قافلے کو روکنے اور اس میں موجود کارکنوں کو پکڑنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امدادی قافلہ غزہ کے طویل محاصرے کو ختم کرنے اور وہاں کے مجبور عوام تک مدد پہنچانے کے لیے نکلا تھا، مگر اسے راستے میں ہی روک کر کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا، جو انسانی اقدار اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حالات نازک ہیں، جنگی تیاری کرنی ہوگی، صدر پزشکیان
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے ایک بار پھر طاقت کا استعمال کر کے امن پسند رضا کاروں کو غزہ کے شہریوں تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہنچانے سے روک دیا ہے، جبکہ وہاں کے لوگ پہلے ہی بنیادی ضرورتوں کی کمی اور شدید بحران سے دوچار ہیں۔
تنظیم کے مطابق غزہ کے محاصرے کو مزید سخت کرنا اور وہاں کے پھنسے ہوئے لوگوں تک امداد پہنچانے میں رکاوٹ ڈالنا انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور مقبوضہ علاقوں میں عام شہریوں کے لیے مدد روکنا سنگین جرم کے برابر ہے۔
تنظیم نے پکڑے گئے کارکنوں کی جان و مال اور صحت کے بارے میں گہری تشویش ظاہر کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے پر خاموشی ختم کر کے اسرائیلی اقدامات کے خلاف واضح اور مؤثر موقف اپنائے۔
ماضی میں بھی امدادی مہمات کے دوران قید کیے گئے کارکنوں کے ساتھ برے سلوک اور حقوق کی خلاف ورزی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج نے امدادی قافلے میں موجود تقریباً سو افراد کو سمندر میں ہی روک لیا اور انہیں ساحل سے کافی دور قید کر دیا ہے۔
یہ امدادی قافلہ درجنوں کشتیوں پر مشتمل تھا، جو چند دن پہلے ترکی کے ایک ساحلی شہر سے اس ارادے کے ساتھ نکلا تھا کہ سن 2007 سے جاری غزہ کے محاصرے کو توڑنے کی ایک نئی کوشش کی جائے۔
The post صمود فلوٹیلا پر صہیونی حملہ شرمناک ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


