spot_img

ذات صلة

جمع

اخلاص کیوں ضروری ہے؟ استاد قرائتی کا خوبصورت بیان

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین استاد قرائتی نے ایک سادہ...

آیت اللہ جوادی آملی: صراط مستقیم کے قافلہ سالار امام زمانہؑ ہیں

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے تفسیر تسنیم...

حوزه علمیہ ترقی و پیشرفت کی راہ پر گامزن ہے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین حسینی نے کہا: تجربہ...

یزید؛ ایک خونی میراث

حوزہ/تاریخ کے کچھ نام صرف نام نہیں رہتے؛ وہ...

وحدت؛ انسانی معاشرے کی بقا و ترقی کے لیے ناگزیر عنصر

حوزہ/ امام خمینیؒ نے 12 ربیع الاوّل سے 17...

امریکہ کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کا کوئی حق نہیں، ایرانی سابق نائب صدر

شیعہ نیوز: ایرانی سابق نائب صدر سید امیرحسین قاضی زادہ ہاشمی نے کہا ہے کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی سابق نائب صدر سید امیرحسین قاضی زادہ ہاشمی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت بے معنی ہے۔

انہوں نے مہر کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بنیادی طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی منطق پر ہی اعتراض ہے اور سوال اٹھایا کہ ایران آخر امریکہ سے مذاکرات کیوں کرے؟

قاضی زادہ ہاشمی نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کے قانونی نظام اور حاکمیت کی بات ہو تو یہ معاملہ ایران، عمان اور زیادہ سے زیادہ خطے کے چند دیگر ممالک سے متعلق ہے، اس کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے ایران کی شرائط سامنے آگئیں

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح بحیرہ کیسپین کے قانونی معاملات پر گفتگو بھی صرف اس کے ساحلی ممالک کے درمیان ہونی چاہیے اور اس میں امریکا کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔

سابق نائب صدر نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منطقی بنیاد موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کو موجودہ عالمی سامراجی طاقت سمجھا جائے تو پھر اس کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں، کیونکہ سامراج کی فطرت ہی ممالک کی آزادی اور خودمختاری کو تسلیم نہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ دوسرے ممالک آزاد اور خودمختار رہیں، اسی لیے اگر مذاکرات کے لیے ایک شرط بھی رکھی جائے تو وہ اسے قبول نہیں کرتا اور ماضی کی طرح مختلف بہانے اور رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔

قاضی زادہ ہاشمی نے مزید کہا کہ اگر امریکہ کو ایک غیر سامراجی ملک بھی تصور کیا جائے تب بھی مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا، کیونکہ وہ ایران سے بارہ ہزار کلومیٹر دور واقع ہے، لہٰذا سوال یہ ہے کہ آخر دونوں ممالک کس معاملے پر مذاکرات کریں؟

انہوں نے آخر میں کہا کہ دونوں صورتوں میں وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کو بے معنی سمجھتے ہیں۔

The post امریکہ کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کا کوئی حق نہیں، ایرانی سابق نائب صدر appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img