spot_img

ذات صلة

جمع

 وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کی سیشن 2026-2031 کے لئے کابینہ کا اعلان

شیعہ نیوز: وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ...

پاراچنار، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے 54 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر تقریب کا انعقاد

شیعہ نیوز:  امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے 54ویں یومِ...

عالمی انٹرنیٹ پر ایران کا تسلط محض ایک فرضی خطرہ نہیں، اسرائیل نیوز

شیعہ نیوز: صیہونی میڈیا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین ڈیجیٹل گزرگاہوں میں سے ایک ہے، لہذا ابوظہبی اور تل ابیب کے درمیان منتقل ہونے والے ڈیٹا پر ایرانی نگرانی کوئی فرضی خطرہ نہیں بلکہ ایک سنگین اسٹریٹجک چیلنج ہے۔

رپورٹ کے مطابق صیہونی ویب سائٹ اسرائیل نیوز نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ جس طرح 1973 میں عرب ممالک نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا تھا، اب 2026 میں ایران نے اپنی توجہ انٹرنیٹ اور ڈیٹا کی ترسیل کے اہم راستوں پر مرکوز کر دی ہے۔

ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز پر مجوزہ نگرانی اور کنٹرول کا منصوبہ محض ایک فرضی خطرہ نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی معیشت کے لیے ایک حقیقت پسندانہ اسٹریٹجک خطرہ ہے۔

ویب سائٹ کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز طویل عرصے سے تیل کی تجارت کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن دنیا یہ بھول گئی ہے کہ یہ دنیا کی اہم ترین ڈیجیٹل شاہراہ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونی حکومت کی پالیسیاں خطے میں استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، روسی وزیر خارجہ

روزانہ 10 ٹریلین ڈالر سے زائد کے مالیاتی لین دین اور سات بڑے مواصلاتی سسٹمز (جن میں   اور  شامل ہیں) اسی تنگ آبی راستے سے گزرتے ہیں۔

یہ کیبلز ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ڈیٹا سینٹرز کو آپس میں جوڑتے ہیں، اور خلیجی ممالک، بھارت اور سعودی عرب کا انٹرنیٹ ٹریفک اسی راستے سے گزرتا ہے۔

صیہونی میڈیا کا دعوی ہے کہ اگر ایران ان کیبلز کی نگرانی، روٹنگ یا مرمت پر اختیار حاصل کر لیتا ہے، تو یہ اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے خلاف ایک بڑا ہتھیار بن جائے گا۔

رپورٹ میں امریکی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ واشنگٹن کی توجہ اب تک صرف ایران کے ایٹمی پروگرام اور یورینیم کی افزودگی پر مرکوز رہی ہے، جبکہ ایران نے سمندر کی تہہ میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔

اسرائیل نیوز نے خبردار کیا ہے کہ تہران کا یہ اقدام عارضی نہیں بلکہ ایک مستقل ڈیجیٹل حکمرانی کے قیام کا حصہ ہے۔

اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس پر فوری قانونی رکاوٹیں کھڑی نہ کیں، تو ایران ان کیبلز پر نہ صرف ٹیکس وصول کرے گا، بلکہ انسپکٹرز تعینات کر کے یہ فیصلہ کرنے کا اختیار بھی حاصل کر لے گا کہ کس ڈیٹا کو گزرنے کی اجازت دینی ہے اور کسے نہیں۔

The post عالمی انٹرنیٹ پر ایران کا تسلط محض ایک فرضی خطرہ نہیں، اسرائیل نیوز appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img