شیعہ نیوز: مشرق وسطیٰ آج ایک انتہائی پیچیدہ اور نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ خلیج فارس کے اس پار اور لبنان کی سرحدوں پر پیش آنے والے واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ خطے میں ایک نیا تنازعاتی نمونہ جنم لے رہا ہے جسے “نہ جنگ، نہ صلح” کا خطرناک چکر کہا جا سکتا ہے۔ یہ حالت روایتی جنگ بندی سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس میں جارحیت ایک مستقل، تدریجی اور پیش گوئی سے بعید طریقے سے جاری رہتی ہے۔
خلیج فارس میں در پردہ جنگ
گزشتہ روز (اتوار سے پیر کی درمیانی شب) امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی جزیرے قشم، سیری اور گورک میں موجود پدافندی ریڈارز، مواصلاتی ٹاورز اور ڈرون سائٹس کو نشانہ بنایا۔ امریکی کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق یہ کارروائی “دفاعِ مشروع” کے تحت کی گئی، کیونکہ یہ سائٹس آبنائے ہرمز میں گزرنے والے تجارتی اور فوجی جہازوں کے لیے براہِ راست خطرہ تھیں۔ تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس حملے کا اصل محرک ایک امریکی MQ-9 ڈرون کی تباہی تھی جسے ایران نے بین الاقوامی پانیوں میں مار گرایا۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے لبنانی حدود سے نکل جائے، پاکستان
یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی تاکتیک کا حصہ ہے جو پینٹاگون اور صہیونی فوجی دستور العمل میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے: چھوٹے، مقصدی حملوں سے آغاز، پھر کلیدی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا، اور بالآخر افراد (کمانڈروں اور سائنسدانوں) کے ترور تک جا پہنچنا۔
یہ وہی طریقہ کار ہے جو شام، لبنان اور غزہ میں آزمایا جا چکا ہے۔ مثال کے طور پر شام میں پہلے راکٹ ڈپو اور ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا گیا، بعد میں پورے فوجی اڈے تباہ کر دیے گئے۔ اسی طرح بحر الکاہل میں وینزویلا، کولمبیا اور کیوبا کے قافلوں کو منشیات کے خاتمے کے بہانے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہر بار یہی کہا جاتا ہے: “ہم نے جنگ شروع نہیں کی، ہم صرف دفاع کر رہے ہیں۔”
ایران کا جوابی اقدام: ایک نیا معادلات
جواباً ایران نے پیر کی صبح کویت کے علی سالم ایئر بیس کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ کویت کی فوج نے تصدیق کی کہ ایران سے داغے گئے پراجیکٹائلز کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایران کے اسلامی سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) نے واضح کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو جواب کی شدت میں اضافہ کیا جائے گا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ جوابی کارروائی متناسب تھی؟ اور کیا روایتی “آنکھ کے بدلے آنکھ” کا اصول اس نئی قسم کی غیر متناسب جنگ میں کارگر ہے؟
لبنان میں کشیدگی اور حزب اللہ کا کردار
خلیج فارس سے ہزاروں کلومیٹر دور لبنان میں بھی صورت حال دھماکے سے پہلے والی ہے۔ صہیونی فوج نے شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان کے درمیان ایک نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ دریائے لیطانی کو عبور کرنے کے بعد اسرائیلی زمینی کارروائیاں مزید گہری ہو گئی ہیں، جبکہ حزب اللہ نے فائبر آپٹک کیبلز، ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے سخت مزاحمت کی ہے۔
تحریر: علی اظہار
The post مشرق وسطیٰ میں خطرناک توازن: “نہ جنگ نہ صلح” کی صورت حال اور اس کے ممکنہ نتائج appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


