شیعہ نیوز: اسرائیلی جنگی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر لبنان سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جانب کوئی راکٹ داغا گیا تو بیروت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، چاہے اس کے حوالے سے کوئی سیاسی معاہدہ موجود نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جنگی کابینہ نے منگل کے روز ہونے والے اپنے اجلاس میں لبنان کے خلاف ایک نیا فیصلہ منظور کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کابینہ نے منظوری دی ہے کہ اگر لبنان کی سرزمین سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جانب کوئی راکٹ فائر کیا جاتا ہے تو اسرائیلی فوج بیروت پر حملہ کر سکتی ہے، خواہ اس حوالے سے کوئی سیاسی سمجھوتہ یا معاہدہ موجود نہ ہو۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیفا سیکریٹری جنرل اور ایرانی وفد کے درمیان اہم آن لائن مشاورت
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لبنان کے اندر اسرائیلی فوجی کارروائیوں، ٹارگٹ کلنگ اور مختلف علاقوں میں تباہی پھیلانے کے واقعات جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے طور پر بیان کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب حزب اللہ نے ماضی میں ایسے اقدامات کے جواب میں لبنان کے اندر اور باہر اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جنگی کابینہ کا یہ فیصلہ اس کے بعد سامنے آیا ہے جب ایران نے خبردار کیا تھا کہ بیروت یا جنوبی لبنان پر کسی بھی حملے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج ردعمل دیں گی، کیونکہ ایران کے موقف کے مطابق لبنان بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کے دائرہ کار میں شامل ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے اور لبنان کے محاذ پر صورتحال کے پیچیدہ ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
The post اسرائیلی جنگی کابینہ کا لبنان کے خلاف نیا جارحانہ فیصلہ، لبنان سے راکٹ فائر ہوا تو بیروت نشانے پر appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


