شیعہ نیوز: آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے امید ظاہر کی ہے کہ ایجنسی جلد ایران میں اپنی فنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے گی، جبکہ دعویٰ کیا کہ آخری معائنے کے بعد ایران نے اپنے جوہری مواد کو منتقل نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کہا ہے کہ ایجنسی ایران میں اپنی فنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اہم کردار ادا کریں گے۔
گروسی کے مطابق ایران میں ایجنسی کی سرگرمیوں اور خصوصی رابطہ کمیٹی کی تشکیل کی تفصیلات ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے دوران طے کی جائیں گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی آئی اے ای اے کے ماہرین کو ایران کی جوہری تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپ، غاصب فوج کے 4 اہلکار زخمی
انہوں نے کہا کہ ایجنسی کے آخری معائنے کے بعد سے ایران نے اپنے جوہری مواد کو منتقل نہیں کیا، تاہم اس کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ ضروری ہے۔
ان کے بقول، ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل کیے بغیر افزودہ یورینیم کے ذخائر کی درست مقدار کا تعین ممکن نہیں۔
گروسی نے یہ بھی کہا کہ ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کا معاملہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے تحت طے کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایرانی حکام اس سے قبل متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کا کوئی امکان نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، تاہم اس دعوے کی تصدیق کے لیے آئی اے ای اے کے ماہرین کو زمینی معائنہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
The post آخری معائنے کے بعد ایران نے جوہری مواد منتقل نہیں کیا، گروسی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


