شیعہ نیوز: صیہونی رژیم کے چینل 12 نے رپورٹ دی کہ اسرائیلی فوج، مقبوضہ علاقوں میں مقیم غیر ملکی ورکرز کے بچوں کو فوج میں شامل کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے، کیونکہ اس وقت اسرائیل کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ایک تجرباتی منصوبے پر عملدرآمد کے لئے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے، جس کا مقصد 100 غیر ملکی نوجوانوں کو فوج میں شامل کرنا تھا۔ یہ منصوبہ فوج، امیگریشن، ادارہ بہبود آبادی اور تل ابیب میونسپلٹی کے تعاون سے تیار کیا گیا۔ تاہم، مذکورہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے استعفے کے بعد یہ منصوبہ روک دیا گیا۔ امیگریشن و پاپولیشن کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی ورکرز کے ایسے بچوں کی تعداد جو فوجی خدمت کی عمر (15 سے 25 سال) میں ہیں، تقریباً 3752 ہے۔
ان میں سے زیادہ تر ورکرز فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور تقریباً 3200 افراد عارضی رہائشی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ مقبوضہ علاقوں میں فوجی خدمت کا قانون، اصولی طور پر مستقل رہائشی پرمٹ رکھنے والے غیر ملکیوں کو فوج میں شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، اسرائیلی فوج نے اب تک ان افراد کو شامل کرنے سے گریز کیا ہے۔ کیونکہ اس سے ان کی شہریت کے حصول کے عمل پر اثر پڑنے اور قانونی دائرہ کار میں تداخل کا خدشہ ہے۔ اس کے باوجود، حالیہ قانونی خط و کتابت اور فوری طور پر افرادی قوت بڑھانے کی ضرورت نے اسرائیلی فوج کو اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس صورت حال پر صیہونی چیف آف آرمی سٹاف کے دفتر نے اعلان کیا کہ یہ معاملہ متعلقہ اداروں کو بھیج دیا گیا ہے اور اس پر غور جاری ہے۔ دوسری جانب صیہونی وزیر جنگ “یسرائیل کاٹز” نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی تک ان کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
The post اسرائیل کا غیرملکیوں کو اپنی فوج میں بھرتی کرنے پر غور appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


