شیعہ نیوز: ایران اور اسلامی مزاحمتی محاذ سے ٹکراو کے بعد اپنے اہداف کے حصول میں مکمل ناکامی کے بعد غاصب صیہونی حکومت پر گہری ناامیدی اور مایوسی چھا چکی ہے۔
صیہونی اخبار معاریو کا فوجی تجزیہ کار آوے اشکنازی نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل اس وقت تمام محاذوں پر شدید بحرانی حالات سے روبرو ہے جبکہ امریکہ کے دباو میں آ کر لبنان سے عارضی جنگ بندی اور سیاسی فیصلے بھی اس بحران میں مزید شدت کا باعث بنے ہیں۔
اشکنازی نے اپنے کالم میں اس بات پر زور دیا ہے کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیل کو انتہائی تشویش ناک صورت حال کا سامنا ہے جو اس سال 27 فروری سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
یہ صیہونی تجزیہ کار لبنان کے بارے میں لکھتا ہے کہ صیہونی فوج روزانہ کی بنیاد پر لبنان میں کاروائیاں انجام دیتی تھی لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں اور اب حزب اللہ لبنان ہر روز میزائلوں، مارٹر گولوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے صیہونی فوج پر حملے کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سوڈان کا ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملے کا الزام
حال ہی میں مختلف صیہونی حلقوں میں انجام پانے والے ایک سروے کے نتائج سے بھی صیہونی معاشرے میں گہرے بحران کی نشاندہی ہوتی ہے۔
صیہونی اخبار معاریو نے 9 اپریل کے دن ایک رپورٹ جاری کی جس میں اس سروے کے نتائج بیان کیے گئے تھے۔
یہ سروے قدس کی عبرانی یونیورسٹی نے انجام دیا تھا اور اس کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجی اور شہری دونوں ہی جنگی صورت حال سے شدید تنگ آ چکے ہیں۔
اس سروے میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت نے اس بات پر زور دیا تھا کہ حزب اللہ لبنان ماضی کی نسبت زیادہ کمزور نہیں ہوئی اور اس کی طاقت اب بھی اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
سروے میں شرکت کرنے والے ایک تہائی افراد نے موجودہ صورت حال بیان کرنے کے لیے لفظ “مایوسی” کا انتخاب کیا تھا۔ اس کے بعد سب سے زیادہ تعداد لفظ “سرگردانی” کو حاصل ہوئی اور اس کے بعد “غصہ” تھا جبکہ سب سے کم تعداد میں افراد نے لفظ “امید” کا انتخاب کیا تھا۔
اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلیوں کی اکثریت ایران اور لبنان سے جنگ بندی کی مخالف ہے جبکہ اسرائیلی فوج یہ جنگ بندی جاری رکھنے پر مجبور ہے۔
The post اسرائیل کو تمام محاذوں پر بدترین حالات کا سامنا ہے، صیہونی میڈیا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


