شیعہ نیوز: امریکی سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور ایرانی میزائل و ڈرون صلاحیت کو کمزور بنانے کے اعلان کردہ اہداف بھی حاصل نہیں ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک وارنر نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ایرانی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو بھی کمزور نہیں کیا جا سکا۔
مارک وارنر نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں سیکڑوں امریکی اہلکار شدید زخمی ہوئے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ میں فٹبال ورلڈ کپ 2026 اور سیاسی ہنگامے
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یہ جنگ اپنی مرضی سے شروع کی، حالانکہ ان کے بقول ایران کی جانب سے کوئی فوری خطرہ موجود نہیں تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلان کردہ اہداف کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی تھا، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
وارنر نے کہا کہ افزودہ یورینیم تک رسائی اور اسے منتقل کرنے کے لیے کم از کم 15 ہزار فوجیوں کی ضرورت ہوگی، لیکن ایسی کارروائی نہایت مشکل ہے کیونکہ ایرانی افواج مزاحمت کریں گی۔ اس سلسلے میں اب تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو کمزور بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکہ 50 ہزار ڈالر مالیت کے ایرانی ڈرون مار گرانے کے لیے ڈھائی ملین ڈالر مالیت کے میزائل استعمال کر رہا ہے۔
امریکی سینیٹر نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمت دوبارہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ کے آغاز کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے بھی کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔
The post امریکہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کمزور بنانے میں ناکام رہا، امریکی سینیٹر appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


