شیعہ نیوز: ایران کے خلاف بلاوجہ جنگ کے نتیجے میں امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اب بھی کافی زيادہ ہیں لیکن امریکی صدر کے معاشی مشیر اور قومی اقتصادی کونسل کے سربراہ نے دعوی کیا ہے کہ حکومت اس مسئلے سے آگاہ اور اسے حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
کیون ہیسن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے سے ایک گفتگو میں دعوی کیا ہے کہ “توانائی کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا ہے لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ قیمتیں اس سے کہیں کم ہیں جتنی لوگوں کو توقع تھی۔ بہر حال، ہم جانتے ہیں کہ پٹرول کی قیمت زیادہ ہے اور ہم عوام پر اس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کر رہے ہیں۔”
ہیسن نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب امریکہ میں روزگار کی شرح اندازوں سے بہت کم ر ہی ہے اور 23 ہزار ملازمتیں کم ہوئی ہیں۔
امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق، پورے امریکہ میں ایک گیلن ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت اب 4 ڈالر 4 سینٹ ہے۔ ایک ماہ قبل یہ اوسطا 3 ڈالر 79 سینٹ تھی اور ایک سال قبل 3 ڈالر 17 سینٹ تھی۔
یہ بھی پڑھیں : روسی وزیراعظم: یوریشین معاشی یونین کی ترجیح، چین اور ایران سے تجارت میں توسیع ہے
ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ نے پٹرول کی قیمتوں میں شدید اضافہ کیا ہے اور ایک مختصر جنگ بندی کے دوران معمولی کمی کے بعد، قیمتیں دوبارہ بڑھ رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلتوں کی وجہ سے بھی تیل کی عالمی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
در ایں اثنا وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی دو ساحلی ریاستوں کی حیثیت سے ایران اور عمان کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے اس آبنائے میں تجارتی جہاز رانی کے لیے محفوظ ٹریفک روٹ کے تعین کے لیے بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ ایرانی حکام اس معاملے کے تکنیکی، قانونی، حفاظتی اور ماحولیاتی پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل “پیشہ ورانہ” سطح پر جاری ہے اور اس میں پیشرفت کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔
The post امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ، وائٹ ہاؤس: قیمت کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


