شیعہ نیوز: بچوں اور لڑکوں کی منڈی پر غیرت کے خود ساختہ ٹھیکیدار اور خود کو مجاہد کہلانے والے خاموش ہیں، خاموش ہونے والے اور اس جرم میں شامل ہونے والے اکثر لوگ طالبان حمایتی اور شریعت کے حصول کے دعویدار ہیں ۔
مقامی صحافی کے بقول بنوں کے اندر باقاعدہ خوبصورت لڑکوں کی منڈی لگتی ہے، وہاں معصوم بچوں کو جانوروں کی طرح کھڑا کیا جاتا ہے، خریدار آتے ہیں، انہیں گھورتے ہیں، پرکھتے ہیں، اور پھر لاکھوں میں خرید کر لے جاتے ہیں، ایک انسان نہیں، ایک بچہ نہیں، بلکہ جیسے کوئی چیز ہو جس کی قیمت لگائی جا رہی ہو۔
اطلاعات کے مطابق یہاں سے یہ خوبصورت اور کم عمر بچے خلیجی ممالک سعودیہ، امارات، بحرین اور قطر تک پہنچائے جاتے ہیں، ان پر لاکھوں روپے خرچ کر کے انہیں سجایا سنوارا جاتا ہے، اور پھر ان کی معصومیت کو کاروبار بنا دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران میں اسکول پر امریکی و صیہونی حملے کیخلاف ملتان میں بچیاں سڑکوں پر نکل آئیں
کہتے ہیں کہ اس تلخ حقیقت کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ اکثر والدین یا تو اس سب سے باخبر ہوتے ہیں، یا خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں، بعض جگہوں پر تو خود والدین بھی اس گھناؤنے دھندے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
معاشرے کی بڑھتی ہوئی درندگی پر سوال یہ ہے کہ غیرت کے دعویدار کہاں ہیں؟ وہ امیر کہاں ہیں جو ہر وقت اخلاقیات کے لیکچر دیتے ہیں؟ جب ایک بچی لڑکوں کے کپڑے پہن لے تو غیرت جاگ اٹھتی ہے، مگر جب معصوم بچوں کی منڈی لگے تو سب کی زبانیں گونگی کیوں ہو جاتی ہیں؟
سچ تو یہ ہے کہ ایسے معاشرے کو دیکھ کر دل میں صرف دکھ نہیں بلکہ ایک گہری نفرت جنم لینے لگتی ہے، کیونکہ یہ منافقت کی وہ شکل ہے جہاں غیرت بھی طاقتور کے سامنے مر جاتی ہے اور انسانیت بھی۔
The post بنوں ، فحاشی کی انتہا ، بچوں اور لڑکوں کی منڈی لگنے کا انکشاف appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


