شیعہ نیوز: رواں مہینے 3 جولائی کو 15 سال بعد، ایک ایرانی طیارہ، سعودی جنگی طیاروں کی کوششوں کے باوجود، صنعاء ہوائی اڈے پر اترنے میں کامیاب ہوا۔ اس واقعے کو یمنیوں نے سعودی عرب کی جانب سے عائد فضائی ناکہ بندی کے خاتمے کے طور پر بیان کیا۔
اس اہم پیشرفت پر یمن کی مقاومتی تحریک “انصار الله” کے پولیٹیکل بیورو “حزام الأسد” نے کہا کہ “صنعاء” اور “تہران” کے درمیان شہری پروازیں جاری رہیں گی، چاہے اس کے لئے تمام سعودی ہوائی اڈوں کی سرگرمیوں کو مفلوج کرنا پڑے۔
اس کے علاوہ مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈئیر “یحییٰ سریع” نے کہا کہ انشاء الله یمن کا محاصرہ توڑنے، مظلوم عوام کے مصائب کم کرنے اور کسی بھی قسم کے نتائج کی پروا کئے بغیر، صنعاء و تہران کے درمیان پروازیں جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : کویت کے سمندری اقدامات کا سخت نوٹس لیا جائے، عراقی عوام کا مطالبہ
دوسری جانب “ریاض” سے وابستہ یمنی صدارتی کونسل نے سعودی عرب کی خوشنودی کے لئے، ایران کی ماہان ائیر لائن کی صنعاء ائیر پورٹ پر لینڈنگ کو یمنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس کونسل نے سعودی عرب کی جانب سے یمن پر برسوں کی پابندیوں اور ناکہ بندی کا کوئی ذکر نہیں کیا جس کے عوام پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔ بلکہ اس کے برعکس دعویٰ کیا کہ یمنی خودمختاری کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لئے ضروری سیاسی اور فوجی اقدامات کئے جائیں گے۔
صدارتی کونسل نے مزید کہا کہ ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یمن کے داخلی امور مں مداخلت نہ کرے۔ ہماری سرزمین کی خودمختاری کا احترام کرے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مذكورہ کونسل نے اس جانب کوئی اشارہ نہیں کیا کہ وہ یمن کی ناکہ بندی کو ناکام بنانے کے لئے کیا اقدام کر سکتی ہے۔
قابل غور بات ہے کہ مذکورہ سیٹ اپ (یمنی صدارتی کونسل) سعودی حکومت کی آشیر باد پر تشکیل پایا۔ جو بغیر انتخابات منعقد کروائے خود کو یمن کا حاکم سمجھتا ہے۔ اسے عوامی پذیرائی بھی حاصل نہیں۔
The post تہران پروازیں جاری رہیں گی، چاہے اس کیلئے سعودی ہوائی اڈے بند كرنا پڑیں، صنعاء appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


