شیعہ نیوز: آپ کو یاد ہو گا پاکستان میں ایک خاتون کے لباس پہ عربی کا لفظ “حلوہ” لکھا ہوا تھا ، وہ خاتون کسی دکان میں داخل ہوئی تو وہاں موجود پاکستانی سچے اور سُچے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی انہوں نے اس عورت پہ توہینِ قرآن کا الزام لگایا اور پھر چند ہی منٹوں میں اپنے جیسے کئی مذہبی ربوٹ جمع کرلئے، قریب ہی تھا کہ سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری مینجر کی طرح اس عورت کو بھی زندہ جلا دیا جاتا، خاتون کی قسمت اچھی تھی پولیس نے پہنچ کر جان بخشی کروائی۔
اس ملک میں ایسے کئی واقعات ہوچکے ہیں جس میں کسی پہ توہین کا الزام لگا کر اسے پار کردیا گیا، بس مولوی حضرات کو ہلکی سے بھِنک پڑ جائے پھر چند لمحات میں “سر تن سے جدا” کے نعرے، احتجاج اور آخر پہ بندے کا کام تمام۔
حالیہ جنگ یمن سعودیہ جنگ میں بھی یمنیوں پہ توہینِ کعبہ کا الزام لگا کر انہیں اسلام سے خارج کردیا گیا ہے، پاکستان میں مولوی حضرات حکومتِ پاکستان سے یمن جاکر جہاد کرنے کی اجازت مانگ رہے ہیں یہ الگ بات ہے اگر اجازت مل بھی گئی تو جائے گا کوئی نہیں۔
آپ کو جیفری ایپسٹن نام کا بندہ تو یاد ہو گا، ایپسٹن فائلز بھی یاد ہوں گی، جیفری ایپسٹن کے ذاتی جزیرہ پہ ہونے والے خوفناک جرائم کا بھی علم ہوگا، مختصر سا تعارف لکھ دیتا ہوں، کئی ملینز ای میلز اور فائلز لیک ہونے پہ پتہ چلا کہ جیفری ایپسٹن کے جزیرہ پہ دنیا بھر سے پانچ سے چھ سال یا دس سال کی بچیوں کو اغواء کرکے لایا جاتا تھا، دنیا کے امیر ترین اور مشہور ترین لوگوں کو اس جزیرہ پہ دعوت دی جاتی تھی, پھر ان معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی تھی، اس کے بعد انکو قتل کرکے ان کا گوشت پارٹیوں میں کھایا جاتا تھا۔
جیفری ایپسٹن کی 2017 کی ای میلز میں ایک عجیب و غریب ای میلز کا سلسلہ بھی سامنے آیا جو سعودی عرب کی شہریت رکھنے والی ایک خاتون عزیزہ الاحمدی کی تھیں، یہ خاتون عرب امارات میں ویڈیو گیمز بنانے والی ایک کمپنی کی مالکن بھی تھی، اس خاتون نے جیفری ایپسٹن کو سعودی عرب سے براہ راست ایک خاص تحفہ بھیجا ، یہ تحفہ ایک فریم شدہ ڈبہ میں بند تھا، اگلی ای میلز سے پتہ چلا کہ یہ خانہ کعبہ کے غلاف کے تین ٹکڑے تھے جو سعودی شاہی خاندان کی طرف سے جیفری ایپسٹن کے لئے خاص تحفہ تھا، اس خاتون نے باقاعدہ ای میل میں لکھا کہ یہ تین الگ الگ غلاف کعبہ کے ٹکڑے ہیں جن میں ایک ٹکڑا اندر سے لیا گیا ، ایک ٹکڑا ابھی نیا تیار ہونے والے غلاف سے لیا گیا اور تیسرا ٹکڑا وہ ہے جس پہ اب تک تقریباً ایک کروڑ مسلمانوں نے مس کیا اور دعائیں مانگیں،
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مکمل توجہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے ثالثی پر مرکوز ہے،وزیراعظم شہبازشریف
آخر جیفری ایپسٹن جیسے شیطان انسان کو خانہ کعبہ کے مقدس غلاف کے ٹکڑے بھیجنے کا کیا مقصد تھا؟ بعد کی ای میلز سے ثابت ہوا کہ جیفری ایپسٹن نے خانہ کعبہ کے ان مقدس ٹکڑوں کو بطور قالین استعمال کیا۔
جیفری ایسپٹن کے جزیرہ میں دیوار پہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کی جیفری ایسپٹن کے ساتھ ایک بڑی تصویر بھی آویزاں ہے۔ آپ گوگل کرکے اس کی تصدیق بھی کر سکتے ہیں۔
میں جب حالیہ یمن سعودیہ جنگ پہ لکھتا ہوں تو دوست ناراض ہوتے ہیں کہ میں ایران کی محبت میں سعودیہ کی مخالفت کر رہا ہوں، جبکہ مخالفت سعودیہ سے نہیں نہ اس مقدس سرزمین سے نفرت ہے بطور مسلمان خانہ کعبہ اور روضہِ رسولؐ اور جنت البقیع سے بڑھ کر کوئی زمین مقدس ہوہی نہیں سکتی۔ اصل مسئلہ یہ ہے ساری زندگی ہم سنتے آئے ہیں کہ امریکہ اور ایران اندر سے ملے ہوئے ہیں، یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دشمن ہیں، یہ گریٹر اسرائیل کے منصوبہ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن جب ہم عرب ممالک کے امریکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات دیکھتے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ اصل میں اندر سے کون ملے ہوئے ہیں۔
پوچھنا یہ تھا کہ ایک عورت کے لباس پہ عربی لفظ دیکھ کر بھڑک جانے والے مسلمان بھائیوں کو خانہ کعبہ کے غلاف کو ایک شیطان کے حوالے کرنے والے کی توہین کیوں نظر نہیں آتی؟ یا پھر روزی روٹی بند ہونے کا خوف ہے؟
تحریر:علی اصغر
The post خاتون کے لباس پرلفظ حلوہ لکھےہونےپر زمین آسمان ایک کرنے والی قوم آل سعود اور جیفری ایپسٹین کے ہاتھوں غلاف کعبہ کی بےحرمتی پر خاموش appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


