spot_img

ذات صلة

جمع

قابض اسرائیل امداد روک رہا ہے اور جنگ بندی سے مکر رہا ہے، مزاحمت کے ہتھیاروں کی بات بے بنیاد ہے: اسامہ حمدان

شیعہ نیوز: اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سینئر رہنما اسامہ حمدان نے غزہ کی پٹی تک انسانی امداد کی ترسیل روکنے اور امدادی اداروں کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی مکمل ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طرزعمل سیز فائر معاہدے کی شقوں سے صریح انحراف اور بدنیتی پر مبنی رویے کا عکاس ہے۔

اسامہ حمدان نے واضح کیا کہ حماس کے ہتھیار حوالے کرنے کا شوشہ کسی بھی زمینی حقیقت پر مبنی نہیں اور اسے محض ہوا میں چھلانگ قرار دیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قابض اسرائیل خود معاہدے کی کسی شق پر عمل درآمد نہیں کر رہا۔

انہوں نے زور دیا کہ اس نوعیت کی کسی بھی بحث کا دارومدار اس امر پر ہے کہ قابض اسرائیل سیز فائر کی تمام شقوں پر مکمل اور کھلے انداز میں عمل کرے۔

بین الاقوامی مؤقف کے تناظر میں اسامہ حمدان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قابض اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کے دوران دیے گئے بیانات امریکہ کی مسلسل جانبداری کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ بیانات نہ تو جارحیت کے خاتمے میں مددگار ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کو مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران میں فسادات کی سازش بے نقاب، غیر ملکی عناصر گرفتار

انہوں نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ محض سیاسی بیانات سے آگے بڑھتے ہوئے قابض اسرائیل پر عملی دباؤ ڈالے تاکہ اسے سیز فائر معاہدے کی تمام شقوں پر بلا استثنا عمل درآمد پر مجبور کیا جا سکے۔

اسامہ حمدان نے اس بات پر زور دیا کہ فوری ترجیح غزہ کی پٹی میں انسانی امداد اور ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانا اور رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنا ہے تاکہ محصور آبادی پر مسلط سنگین انسانی المیے کی شدت میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ قطر ،مصر اور ترکیہ سمیت ثالث ممالک واشنگٹن کے ساتھ رابطوں کے ذریعے مسلسل اور سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں تاکہ قابض اسرائیل کو اس کے وعدوں کا پابند بنایا جا سکے اور ٹال مٹول کی پالیسی کا خاتمہ ہو۔

جبری بے دخلی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے اسامہ حمدان نے کہا کہ قابض اسرائیل غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں فلسطینی سرزمین کو اس کے باشندوں سے خالی کرنے کے لیے منظم منصوبے پر عمل پیرا ہے، تاہم فلسطینی عوام اپنی زمین سے وابستگی پر قائم ہیں اور نسل کشی جیسے جرائم کے باوجود اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے قابض اسرائیل کی جانب سے نام نہاد صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کو بھی اسی وسیع تر منصوبے کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے وطن سے باہر دھکیلنا ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ان خطرناک پالیسیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدام کرے۔

داخلی امور کے حوالے سے اسامہ حمدان نے حماس کے اندر کسی بھی قسم کے قیادت کے خلا کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک پانچ ارکان پر مشتمل ایک قیادت کونسل کے ذریعے منظم انداز میں چلائی جا رہی ہے جو تمام فیصلے کرتی ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب قابض اسرائیل سات اکتوبر 2023ء سے امریکہ اور یورپی حمایت کے ساتھ غزہ کی پٹی پر سفاکانہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں قتل عام، بھوک، تباہی، جبری بے دخلی اور گرفتاریاں شامل ہیں، اس دوران عالمی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔

The post قابض اسرائیل امداد روک رہا ہے اور جنگ بندی سے مکر رہا ہے، مزاحمت کے ہتھیاروں کی بات بے بنیاد ہے: اسامہ حمدان appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img