spot_img

ذات صلة

جمع

ڈیموکریٹس کی کامیابی کی صورت میں ٹرمپ کو کیسے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا؟

شیعہ نیوز: اگر ڈیموکریٹس امریکہ کے وسط مدتی انتخابات...

شام نے “مکہ معاہدہ” میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کردیا

شیعہ نیوز: شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے سعودی...

لندن میں سیاحتی نمائش صیہونی مخالف احتجاج کا مرکز بن گئی

شیعہ نیوز: فلسطین کے حامی برطانوی کارکنوں نے نمائش...

قابض دشمن کی مسلسل سفاکیت سے غزہ کی سڑکیں مقتل اور موت کی راہداریوں میں تبدیل ہو چکی ہیں:حماس

شیعہ نیوز: اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ قابض صہیونی دشمن کی جانب سے بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر مسلسل بمباری اور غزہ پٹی میں معصوم عورتوں اور نونہال بچوں کا قتلِ عام دراصل نسل کشی کے اسی مسلسل اور بھیانک جرم کا تسلسل ہے جو امریکہ اور ضامن ممالک کی زیرِ سرپرستی طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے باوجود تاحال تھم نہ سکا۔

اپنے اخباری بیان میں حازم قاسم نے واضح کیا کہ قابض دشمن کی بڑھتی ہوئی سفاکیت، قحط سالی اور بھوک کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنے کی شاطرانہ پالیسی کے باعث غزہ کی گلی کوچے اور سڑکیں مقتل کی راہداریوں کا روپ دھار چکی ہیں۔

جس کے نتیجے میں پوراعلاقہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کے سامنے ایک روح فرسا انسانی تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔

حماس کے ترجمان نے کہا کہ”نام نہاد امن کونسل اور اس کے نمائندے نکولے ملادی نوف کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قابض دشمن پر دباؤ ڈالنے اور اسے ان وحشیانہ جرائم سے روکنے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدام کریں۔

اس سفاکیت اور کھلی درندگی پر خاموشی دراصل معصوم شہریوں کے خلاف جاری سنگین خلاف ورزیوں میں برابر کا شراکت دار بننے کے مترادف ہے۔”

حازم قاسم نے امن کونسل میں شامل عرب اور اسلامی ممالک سے پرزور اپیل کی کہ وہ جرات مندانہ اور عملی موقف اختیار کریں تاکہ قابض دشمن اس کونسل میں ان کی موجودگی کو فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی اور اپنے مظالم کو ڈھانپنے کے لیے بطورِ ڈھال استعمال نہ کر سکے۔

نسل کشی کا بے رحم تسلسل

یہ بھی پڑھیں : مستکبر امریکی دشمن کے سامنے مقاومت اور پائیداری کی تاکید

منگل کی صبح بھی غزہ پٹی پر قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں چار فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گئے (جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا) جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔

طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی کے مقام پر یونیورسٹی کالج کے گیٹ کے قریب قابض فوج کی بمباری سے تین شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔

مقامی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 39 سالہ شہری عماد عمر راضی گذشتہ روز خان یونس کے شمال مغرب میں جاپانی محلے پر ہونے والی بمباری میں شدید زخمی ہوئے تھے، جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے منگل کو ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

وسطی غزہ میں ’یلو لائن‘ (زرد لکیر) کے مشرق میں تعینات قابض اسرائیلی جنگی گاڑیوں اور ٹینکوں نے پناہ گزین کیمپوں اور رہائشی علاقوں پر اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ کا سلسہ جاری رکھا۔

شہداء کی تعداد میں تشویشناک اضافہ

غزہ پٹی کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 شہداء کے جسد خاکی اور 27 زخمی ہسپتالوں میں لائے گئے۔

وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں وضاحت کی کہ ان میں 5 نئے شہداء شامل ہیں جبکہ ایک شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوا۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد بڑھ کر 1,599 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 5,774 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملبے تلے سے 847 شہداء کی میتیں بھی نکالی جا چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس وحشیانہ عدوان اور نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی کل مجموعی تعداد 74,615 تک جا پہنچی ہے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 175,899 ہو چکی ہے۔

The post قابض دشمن کی مسلسل سفاکیت سے غزہ کی سڑکیں مقتل اور موت کی راہداریوں میں تبدیل ہو چکی ہیں:حماس appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img