شیعہ نیوز: رہبر انقلاب اسلامی: گھٹنے ٹیکنے کا معمولی ترین رجحان بھی مستکبر دشمن کی جرائت بڑھا دے گا
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے سامراج کے خلاف مجاہدت کے قومی دن پر اپنے پیغام میں “ایران کو زیادہ سے زیادہ طاقتور” بنانے کی اسٹریٹیجی جاری رکھنے کی تاکید کی ہے۔
آپ نے اتحاد ویک جہتی کو کامیابی کا بنیادی عنصر قرار دیا ہے اور تاکید کی ہے کہ ایران کے عوام اور حکام کے انفرادی اور اجتماعی قول وعمل میں یہ عنصرنمایاں ہونا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کا قومی دن ہے۔ یہ وہ دن بھی ہے جس میں باطل کے محاذ کے مقابل، حق کے محاذ کی صف آرائی اور ظالموں کے محاذ کے مقابل مظلوموں کے محاذ کی صف آرائی کے کئی اہم موڑ اکٹھا ہو گئے ہیں۔ شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سال 13 آبان (4 نومبر) کو ایرانی قوم، مجرم امریکا کے سلسلے میں اپنا فریضہ گزشتہ ہر سال کی نسبت زیادہ واضح اور شفاف طور پر جانتی ہے، تاہم امریکہ کی بڑھتی ہوئی دشمنی اور اس کے مقابل ایرانی قوم کی مضبوط صف آرائی کی وجوہات، اسباب اور اہم موڑوں کا جائزہ لینا، مستقبل کے لیے مشعل راہ ہے۔
ایرانی قوم کے خلاف امریکی ظلم کا نقطۂ آغاز سات عشروں سے زیادہ پرانا ہے، جب اس نے قومی وسائل اور سرمایوں بالخصوص تیل کی لوٹ مار جاری رکھنے کے لیے 19 اگست 1953 کی بغاوت کروائی۔ اس کے بعد سے لے کر اسلامی انقلاب کی کامیابی تک کا وقت، وہ دور تھا جب امریکی حکمرانوں نے ایرانی قوم کے اثاثے لوٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس راہ میں انھوں نے ساواک کی تشکیل کرکے اور معاشرے پر سخت پولیس کنٹرول کی فضا مسلط کرکے اُس وقت کی ظالم حکومت کے ہاتھ ہر قسم کی احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے مزید کھول دیے۔
اسلامی انقلاب کی شاندار کامیابی سے بالکل پہلے بھی انھوں نے اپنی کٹھ پتلی حکومت کو بچانے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کیے۔
ایرانی قوم کے عظیم انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی ان کے معاندانہ اقدامات کی ایک طویل فہرست پیش کی جا سکتی ہے، جس میں علیحدگی پسند گروہوں، باغیوں اور ان کور دل منافقین کی حمایت شامل ہے جو سائنسی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں عام لوگوں کو بھی بے رحمی سے شہید کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلامی ممالک کا اتحاد علاقائی سلامتی اور استحکام کی ضمانت ہے، صدر پزشکیان
پہلی مسلط کردہ جنگ میں بعث پارٹی کی براہ راست اور ہمہ گیر پشت پناہی، مسافر بردار طیارے کے مسافروں کا قتل عام، ہمہ گیر، طویل المدت اور سخت اقتصادی پابندیاں، متعدد فتنہ و فساد کی پلاننگ اور ان کی حمایت اور ہتھیاروں کی فراہمی تک، ایران کے قومی اور امت مسلمہ کے ہیرو جنرل قاسم سلیمانی کا قتل، مختلف ممالک میں ایرانی قوم کے اموال اور اثاثوں کی چوری اور دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں میں براہ راست فوجی جارحیت اور بڑی تعداد میں ایرانی ماہرین، سائنس دانوں، کمانڈروں اور مظلوم عوام کو شہید کرنا جن میں نوزائیدہ اور کم سن بچوں سے لے کربزرگ اور عمر رسیدہ افراد تک شامل تھے جن میں سرفہرست رہبر انقلاب اسلامی قدس سرہ تھے۔
ان تمام مراحل میں امریکہ کے مستکبر حکمراں اور ان کے پٹھو ہمیشہ ایران پر اپنا تسلط جمانے اور اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے درپے رہے ہیں اور اس منہ زوری کی تازہ ترین کوششوں میں انھوں نے بین الاقوامی آداب اور جھوٹی و فریب کارانہ ظاہری روایات کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے ایران کو تقسیم کرنے، قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے، نظام کا شیرازہ بکھیرنے اور ایران کے اصیل و قدیمی تمدن کو مٹانے کے درپے ہیں۔
البتہ ہر مرحلے پر انھیں زمینی حقائق کی مضبوط دیوار اور غیور ایرانی قوم کے عزم و ارادے کی مضبوط چٹانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کے غلط اندازوں اور سامراجی وہم کا نتیجہ، بھاری اخراجات کی صورت میں امریکی عوام اور امریکا کی کٹھ پتلی حکومتوں کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔
ایران کی مسلمان قوم کے ساتھ امریکہ کی دیرینہ دشمنی اور اس دشمن کے مقابلے میں تمام ایرانیوں کی غیورانہ مزاحمت اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ اب صرف 4 نومبر ہی نہیں بلکہ ہر دن اور ہر گھڑی بڑے شیطان کے خلاف استقامت اور جدوجہد کا دن بن چکا ہے۔
آج خلیج فارس، بالخصوص آبنائے ہرمز کے پلیٹ فارم نے جس طرح امریکہ کے ناقابل شکست ہونے کی داستان پر خط بطلان کھینچ دیا ہے، اسی طرح ان حکومتوں کی کمزوری اور عاجزی کو، جو اپنی قوم کو چھوڑ کر کسی اور طاقت پر بھروسا کرتی ہیں اور اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کے دفاع میں بڑی طاقتوں کی بے وفائی اور عاجزی کو بھی ظاہر کر دیا ہے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا انتظامی کنٹرول اور خطے کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ، اگرچہ تیسری مسلط کردہ جنگ میں امریکہ کی جارحیت اور جرائم کا ایک ردعمل تھا لیکن اس کے ساتھ ہی اسے علاقائی سطح پر سامراج کے خلاف ایک جہاد ابتدائی بھی کہا جا سکتا ہے، جو جارحیتوں کے دوبارہ ارتکاب کی صورت میں کہیں وسیع پہلو اختیار کر لے گا۔
قوت و اقتدار کی یہ نشانی، حق کے محاذ کے مختلف مورچوں کے اتحاد اور فلسطین و لبنان سے لے کر عراق اور یمن تک مزاحمتی محاذ کی دانش مندانہ، پرعزم اور شجاعانہ سرگرمیوں کے ساتھ مل کر حق کے محاذ کا پرچم بلند ہونے اور نئے عالمی نظام کی راہ ہموار ہونے کی روشن اور امید افزا نوید ہے کیونکہ جب بھی حق کے محاذ میں توکل، استقامت اور قربانی کا جذبہ ہوگا تو باطل کا محاذ، چاہے اس میں کتنی ہی طاقت و توانائی اور جو بھی اور جو کچھ بھی کیوں نہ ہو، اس کے سامنے ٹک نہیں سکتا اور اس کا حتمی انجام پسپائی اور شکست ہے کہ انّ الباطلَ کانَ زَھوقا۔ (بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔)
The post مستکبر امریکی دشمن کے سامنے مقاومت اور پائیداری کی تاکید appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


