spot_img

ذات صلة

جمع

   ٹرمپ شکست خوردہ وسواس میں مبتلا ہیں

ایرانی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے تحقیقاتی مرکز کے...

  امریکا اور اسرائیل پر ایران کی فوجی اور سیاسی فتح

 مصر میں ایرانی مفادات کے نگراں دفتر کے سربراہ...

ایران: عراقی کردستان ریجن کی حکومت کے سربراہ کے دفتر پر ڈرون حملہ مشکوک ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے...

ایران کے پاس یونیسکو میں عالمی رجسٹریشن کے لیے 58 آثار قطار میں

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزير ثقافت ادارہ...

قاہرہ میں حماس رہنماؤں سے ٹرمپ کے نمائندے کی مشاورت کی تفصیلات جاری

شیعہ نیوز: فلسطینی ذرائع نے قاہرہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور حماس کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی ذرائع نے قاہرہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور حماس کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ غزہ کے کسی بھی منصوبے میں رہائشیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتا ہے، تاہم ٹرمپ کے نزدیک مسلح گروہوں کا غیر مسلح ہونا غزہ میں کسی بھی اقدام سے پہلے بنیادی شرط ہے۔

ایک فلسطینی ذریعے نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور حماس کے وفد کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی ملاقات دو گھنٹے سے زائد مذاکرات کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔ اس ملاقات میں غزہ کے لیے امن کونسل کے اعلی نمائندے نکولای ملادینوف بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں : المیہ رونما ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے نکلنا ہوگا، مستعفی امریکی افسر

کشنر نے اس ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ ٹرمپ غزہ کی پٹی کے حوالے سے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں اور واشنگٹن کے عزم پر بھی زور دیا۔

حماس کے وفد نے بھی اجلاس کے دوران غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی تمام خلاف ورزیوں سے کشنر کو مکمل طور پر آگاہ کیا اور تاکید کی کہ یہ تحریک ایسے کسی بھی نئے اقدام کو مسترد کرے گی جس کے بارے میں پہلے سے اس بات کی ضمانت نہ ہو کہ اسرائیل اس سے اتفاق کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق کشنر نے حماس کے وفد کو بتایا کہ امریکہ غزہ کے رہائشیوں کو بے دخل کرنے یا انہیں کہیں اور منتقل کرنے کے کسی بھی منصوبے کی مخالفت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے نقطہ نظر سے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا غزہ میں کسی بھی دوسرے اقدام سے پہلے اٹھایا جانے والا بنیادی اور ضروری قدم ہے۔

کشنر نے مزید کہا کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیے جانے کے بعد ہی اسے سیاسی عمل میں شامل کرنا ممکن ہوگا۔ انہوں نے تاکید کی کہ غیر مسلح کیے جانے کے بعد واشنگٹن غزہ میں ایک جامع سیاسی عمل آگے بڑھائے گا جس میں کسی بھی فریق کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے اسی دوران حماس کے وفد کو مشورہ دیا کہ وہ اسرائیل کے انتخابات کے نتائج پر بھروسا نہ کرے، کیونکہ غزہ کی پٹی کے معاملے پر اسرائیلی جماعتوں کا موقف ایک ہے۔

The post قاہرہ میں حماس رہنماؤں سے ٹرمپ کے نمائندے کی مشاورت کی تفصیلات جاری appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img