spot_img

ذات صلة

جمع

   ٹرمپ شکست خوردہ وسواس میں مبتلا ہیں

ایرانی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے تحقیقاتی مرکز کے...

  امریکا اور اسرائیل پر ایران کی فوجی اور سیاسی فتح

 مصر میں ایرانی مفادات کے نگراں دفتر کے سربراہ...

ایران: عراقی کردستان ریجن کی حکومت کے سربراہ کے دفتر پر ڈرون حملہ مشکوک ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے...

ایران کے پاس یونیسکو میں عالمی رجسٹریشن کے لیے 58 آثار قطار میں

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزير ثقافت ادارہ...

المیہ رونما ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے نکلنا ہوگا، مستعفی امریکی افسر

شیعہ نیوز: امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں رکھا ہوا ہے، اس لیے کسی بڑے سانحے کے رونما ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے نکل جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کونٹ نے ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال صدر ٹرمپ کو اس انتخاب پر مجبور کرسکتی ہے کہ وہ دوبارہ کسی تنازع میں الجھیں یا شکست کے ساتھ پسپائی اختیار کریں۔

جو کنٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ 2020 میں صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ دانشمندانہ طور پر ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ہماری افواج کو اپریل یا مئی 2021 میں افغانستان سے نکلنے کی اجازت تھی۔ جب بائیڈن نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے ہماری افواج کو 11 ستمبر کے حملوں کی 20 ویں برسی تک افغانستان میں رکھنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ اپنی شرائط کے مطابق ایک علامتی انخلا چاہتے تھے اور اس کے پیچھے ان کے احساس برتری کو پورا کرنے کے علاوہ کوئی حقیقی وجہ نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان ؛ سپاہ صحابہ کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں پر تشویش، ریاستی اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ

سابق امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ ایران کے معاملے میں اپنے لیے اسی طرح کا جال تیار کر رہے ہیں۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ یہ جنگ، یعنی ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی جارحیت، کوئی فوجی حل نہیں رکھتی اور ایرانیوں نے دھمکیوں اور بار بار کی بدعہدی کے ساتھ کی جانے والی سفارت کاری کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

جو کنٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں رکھا ہوا ہے، اس تصور کے ساتھ کہ ہم دوبارہ تنازع شروع ہونے کے وقت کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ بائیڈن بھی یہ سمجھتے تھے کہ وہ افغانستان میں طالبان کو اس وقت تک ہم پر حملہ کرنے سے روک سکتے ہیں جب تک وہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر لیں، جبکہ اس دوران ہماری افواج کو افغانستان میں خطرے سے دوچار رکھا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں ہم نے اپنے 13 بہترین فوجیوں کو کھو دیا اور بالآخر جانی نقصان اور رسوائی برداشت کرتے ہوئے ایسی جنگ سے پسپائی اختیار کی جسے ختم کرنے کا فیصلہ ہم ایک سال پہلے ہی کر چکے تھے۔

جو کنٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کو 2021 میں بائیڈن کے غرور اور اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہم اب ایران کے معاملے میں وہی غلطیاں کیسے دہرا رہے ہیں۔

انہوں نے تاکید کی کہ امریکی فوجیوں کو ایران کی زد میں رکھنا ایران کو برتری فراہم کرتا ہے اور یہ صورتحال ہمیں ایران کی شرائط پر دوبارہ جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔

جو کنٹ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی بڑے سانحے کے رونما ہونے سے پہلے اس صورتحال سے نکل جایا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس صورتحال میں رہنے سے کوئی فتح حاصل نہیں ہوگی، لہذا ابھی نکل جائیں، اس جال سے دور رہیں اور کھیل کے قواعد ازسرنو طے کریں۔

The post المیہ رونما ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے نکلنا ہوگا، مستعفی امریکی افسر appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img