spot_img

ذات صلة

جمع

غزہ سے یکجہتی کے لیے مراکش میں لاکھوں افراد کے احتجاجی مظاہرے

شیعہ نیوز: جمعہ کے روز مراکش کے لاکھوں شہریوں...

دبئی: متحدہ عرب امارات میں 17 جنوری کو جنگی جہازوں کا فضائی جلوس

شیعہ نیوز: متحدہ عرب امارات میں 17 جنوری کو...

بھارت ایران کی چابہار پورٹ کا تعمیراتی کام چھوڑنے پر مجبور

شیعہ نیوز: مفادات کے حصول کی خاطر ایران سے...

مکتبِ تشیع اور سیاست

تحریر: ارشاد حسین

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء سے قبل پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک روشن اور کم بیان کیا جانے والا باب یہ ہے کہ اُس زمانے میں پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں میں فقہِ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے نمائندگان کی معقول تعداد موجود ہوا کرتی تھی۔ وہ دور فرقہ وارانہ تعصبات سے نسبتاً پاک تھا اور اہلِ تشیع نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بھی باوقار انداز میں فائز تھے۔ ریاست اور معاشرہ اس حقیقت کو قبول کیے ہوئے تھا کہ اہلِ تشیع اس ملک کے وفادار، فعال اور ذمہ دار شہری ہیں۔لیکن یہ فضا اس وقت بدلنا شروع ہوئی، جب ضیائی آمریت کے دور میں زکوٰۃ کے مسئلہ نے ایک سنگین سیاسی اور نظریاتی شکل اختیار کر لی۔ پسِ پردہ پاکستان پیپلز پارٹی میں موجود بعض اہلِ تشیع رہنماؤں نے ضیاء الحق کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے پر زور دیا، جس کے نتیجے میں آمریت اور اہلِ تشیع کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے گئے۔ دوسری جانب اسلامی انقلابِ ایران کی تازہ گونج اور اس کے ممکنہ اثرات کے خوف نے ضیاء الحق کو ایک ایسی پالیسی بنانے پر آمادہ کیا، جس کا ہدف براہِ راست اہلِ تشیع بنے۔

یوں زکوٰۃ کے مسئلہ کو جواز بنا کر اہلِ تشیع کو منظم انداز میں سیاست اور ریاستی امور سے دور کرنے کا آغاز ہوا۔ یہ وہ سیاہ پالیسی تھی، جس کے اثرات بدقسمتی سے آج تک کسی نہ کسی صورت میں پاکستان میں نافذالعمل دکھائی دیتے ہیں۔ اہلِ تشیع کے خلاف نفرت کو منظم طور پر فروغ دیا گیا، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور خوف کی سیاست کے ذریعے انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔ اہل تشیع کی نمائندہ جماعت تحریکِ جعفریہ کو کمزور کرنے کے لیے ملت کو مختلف صفوں میں تقسیم کیا گیا۔ مفتی جعفر حسینؒ کے وصال کے بعد تحریکِ نفاذِ فقہ جعفریہ کا وجود بھی اسی حکمتِ عملی کی ایک جھلک تھا۔ علامہ سید عارف حسین الحسینی کی قیادت نے ملت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، مگر جیسے خطرہ محسوس ہوا، ان کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت کے بعد ملت مضبوط اور مخلصانہ کوششوں کی امیدیں وابستہ کرچکی تھی، مگر کچھ غلطیوں کی وجہ سے یہ تسلسل جاری نہ رہ سکا۔

نتیجتاً 1995ء سے 2012ء تک کا عرصہ ایسا رہا، جس میں ملتِ جعفریہ سیاست کے میدان میں کوئی نمایاں اور فیصلہ کن کردار ادا نہ کرسکی۔ یہ ایک طویل خلا تھا، ایک ایسی خاموشی، جو ملت پر بھاری پڑتی چلی گئی۔ پھر مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے یکم جولائی 2012ء کو سیاسی روڈ میپ دینے کا اعلان کیا۔ آخر وہ تاریخی دن طلوع ہوا، جب لاہور کے مینارِ پاکستان کے سائے تلے مجلس وحدتِ مسلمین پاکستان نے اپنے سیاسی سفر اور واضح روڈ میپ کا اعلان کیا۔ ہزاروں مرد و زن کی موجودگی میں یہ اعلان یوں محسوس ہوا، جیسے برسوں سے بکھری ہوئی ملت کو اس کی کھوئی ہوئی پہچان واپس مل گئی ہو۔ بصیرت رکھنے والوں نے اس اقدام کو سراہا، مگر وہ عناصر جو سیاست کو صرف پیپلز پارٹی، نون لیگ، (ق) لیگ یا دیگر سیاسی جماعتوں تک محدود دیکھنا چاہتے تھے، انہیں یہ فیصلہ سخت ناگوار گزرا۔ یہی وہ لمحہ تھا، جب مجلس وحدتِ مسلمین پاکستان کے خلاف سازشوں کا آغاز ہوا۔

دیگر شیعہ جماعتوں اور تنظیموں کو مجلس کے خلاف اکسانا، ان تنظیموں کو مجلس کے خلاف مضبوط کرنے کی کوششیں کرنا اور بڑے گھروں سے یہ پیغامات دینا کہ “آپ ایک پریشر گروپ بن کر رہیں، سیاست سے دور رہیں، ورنہ آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔” یہ سب اسی خوف کی علامات تھیں۔ مگر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور ان کے باوفا ساتھیوں نے ہر دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ مخالفت صرف باہر سے نہیں بلکہ اندرونی صفوں میں بھی موجود تھی، مگر عزم اٹل تھا۔ سیاست میں آنے کے بعد گرفتاریوں، دھمکیوں، شیڈول فور اور تھری ایم پی او جیسے قوانین کا سامنا کرنا پڑا، کچھ ساتھی راستے میں جدا ہوگئے، مگر قیادت میدان میں ڈٹی رہی اور یہی وجہ تھی کہ قوم مجلس وحدتِ مسلمین پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ سانحہ راجہ بازار کے موقع پر مجلس وحدت کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا، مگر میدان خالی نہ کیا گیا۔ یہی استقامت فرقہ پرستوں کی شکست کا سبب بنی۔

عزاداری پر پابندیوں، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے خلاف مجلس وحدت مسلمین نے ہر محاذ پر جرات مندانہ اور مؤثر کردار ادا کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا، جب سیاست کے میدان میں عملی قدم رکھنا ناگزیر ہوچکا تھا۔ بالآخر 13 مئی 2013ء کی صبح طلوع ہوئی، جب مجلس وحدتِ مسلمین پاکستان نے پہلی بار اپنے انتخابی نشان کے ساتھ عام انتخابات میں حصہ لیا۔ کامیابی اگرچہ کوئٹہ کی ایک نشست تک محدود رہی، مگر یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی شیعہ جماعت نے اپنے نام سے جنرل الیکشن میں نشست حاصل کی۔ اس منتخب ایم پی اے نے جو عملی کردار ادا کیا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ وہ مظلومین کی جس طرح آواز بنے، تفتان زائرین کے لیے پاکستان ہاؤس کی تعمیر، بلوچستان یونیورسٹی کی کوئٹہ برانچ، تعلیمی ادارے اور بنیادی سہولیات، یہ سب ایسے اقدامات تھے، جنہوں نے علاقے کی تقدیر بدل دی۔ اس کے ساتھ ساتھ مجلس وحدتِ مسلمین پاکستان نے لاکھوں ووٹ حاصل کیے، کئی حلقوں میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہی، جس سے یہ واضح کرنا تھا کہ اکیلے الیکشن لڑنا جیت سے زیادہ اپنی سیاسی قوت جانچنے کے لیے ضروری تھا۔

یہی وہ حقیقت ہے، جو دیگر جماعتوں کے اندر ملت کی اصل حیثیت کو آشکار کرتی ہے۔ اس مختصر پس منظر کے بعد ایک سوال پوری شدت سے سامنے آتا ہے کہ ملتِ جعفریہ کے لیے سیاست میں آگے بڑھنا کیوں ناگزیر ہے۔؟ سچ یہ ہے کہ اگر آپ سیاست میں نہیں، پارلیمنٹ میں آپ کی آواز نہیں، تو اس ملک میں آپ کی کوئی وقعت نہیں۔ پھر آپ کو جب چاہا، جہاں چاہے استعمال کیا جاتا ہے اور ضرورت ختم ہوتے ہی ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔ آج بھی کچھ لوگ سیاست میں فعال ہونے کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، مگر یاد رکھیے، کسی کے اشاروں پر چلنے سے نقصان صرف فرد کو نہیں، پوری ملت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ مختصر یہ کہ مجلس وحدتِ مسلمین پاکستان نے جو مقام حاصل کیا، وہ کسی کی آشیرباد کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنے زورِ بازو، قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔ آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ملتِ جعفریہ کی جو باوقار نمائندگی نظر آتی ہے، ماضی میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

پہلے بھی شیعہ سینیٹرز اور ارکانِ اسمبلی آتے رہے ہیں، مگر خریدی ہوئی نشستوں یا کسی سیکولر پارٹی کے ٹکٹ سے جیتے ہوئے ان کی پالیسی پر چلنا مجبوری ہوتا ہے، مطلب کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہوتی۔ مگر آج مجلس وحدتِ مسلمین نے اپنی شناخت سے عملی سیاست میں وہ کردار ادا کیا ہے، جس نے دوست و دشمن سب کو حیران کر دیا ہے۔ عوامی حقوق، ملی مسائل اور مظلوموں کی آواز بننے میں جس جرات، دیانت اور تسلسل کا مظاہرہ کیا گیا، وہ اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سچائی، شفاف گفتگو اور مخلصانہ سیاست نے یہ ثابت کر دیا کہ شیعہ مسائل پر بات کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ ایک آئینی اور اخلاقی حق ہے۔ اس سے قبل شیعہ حقوق پر جو نمائندہ بات کرتا تھا، اس کو شیعہ نواز یا ایران نواز کہا جاتا تھا۔ حلقے میں مشکلات آجاتیں، جس کی وجہ سے شیعہ حقوق پر بات کہیں نہ ہوتی۔

آج پاراچنار راستوں کی بندش ہو یا زائرین پر بائی روڈ سفر کی پابندی، ایران پر اسرائیل کا حملہ ہو یا مجالس، جلوسوں پر پابندی ہو۔ مجلس وحدت مسلمین کے نمائندگان کے ساتھ دیگر سینیٹرز اور ایم این ایز بھی بات کرتے ہیں۔ یہ ہمت کس نے دی؟ یا بت کس نے توڑا۔؟ واقعی یہ کریڈٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری یا پارٹی کو جاتا ہے۔ آج ڈان ٹی وی ٹاک شو پر جس طرح علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے جس طرح پاکستان کے مسائل اور مشکلات پر بات کی، اس پہلے کھبی ایسا دیکھنے کو نہیں ملا۔ اس سے پہلے ملت تشیع کے رہنماؤں کو پاکستان کے ایشوز پر نہیں بلکہ مسلکی موقف بیان کرنے کیلئے بلایا جاتا تھا۔ آج پاکستان میں ایک حصہ دار شہری کی طرح شیعہ نمائندگی ہو رہی ہے۔ یہی وہ شعور ہے، جو ملت میں بیدار ہوا ہے کہ سیاست میں حصہ لے کر وہ کام کم وقت میں ممکن ہو جاتے ہیں، جو برسوں میں بھی نہیں ہو پاتے تھے۔

وہ دن دور نہیں، جب ملتِ جعفریہ اپنے مسائل خود حل کرے گی، کسی ادارے یا دفتر میں امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہوگا اور پاکستان میں اہلِ تشیع ایک بار پھر باوقار، بااثر اور برابر کے شہری کی حیثیت سے پہچانے جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیاست ہی ملت کی نمائندگی تمام شعبوں میں موثر انداز پیش کرسکتی ہے، وگرنہ یہ بڑی بڑی تقاریر، خطابات کسی کے کام نہیں آنے والے۔ نہ ہی کوئی شنوائی ہوگی۔اس وقت پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے قریب ہونے کا واحد راستہ بھی یہی ہے۔پاکستان میں تمام مسالک کی مذہبی سیاسی قیادت ہی موثر ہے، جس سے اتحاد بین المسلمین کے لئے بھی کرادر ادا کیا جاسکتا ہے۔ اگر سیاست سے دور ہوگئے تو پھر سے وہی دیوار سے لگانے والی صورتحال کے لئے تیار رہیں۔

The post مکتبِ تشیع اور سیاست appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img