شیعہ نیوز: رہبر انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ نماز صرف ایک انفرادی فریضہ نہیں بلکہ صالح حکومت کی علامت اور ذکر خدا، امید اور توکل کا مضبوط سہارا ہے جو موجودہ جدوجہد میں کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ مجتبی حسینی خامنہ ای نے کہا ہے کہ نماز صرف ایک انفرادی فریضہ نہیں بلکہ اسلامی حکومت آور معاشرت کی بنیاد ہے۔
33ویں قومی نماز اجلاس کے موقع پر اپنے پیغام میں نماز کو دین کا ستون اور انسان کے لیے اللہ تعالیٰ سے براہ راست تعلق کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے رہبر معظم نے کہا ہے کہ نماز آج ملت ایران کی جدوجہد کے میدان میں جہاد، فتح اور ظفر کی مضبوط پشت پناہ ہے۔
رہبر معظم کا یہ پیغام مشہد مقدس میں حرم مطہر رضوی میں منعقد ہونے والے نماز کے 33ویں قومی اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا۔
رہبر انقلاب نے اپنے پیغام میں نماز کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک، دین کا برترین فریضہ اور علامت اور انسان کے لیے لامحدود الٰہی سرچشمے سے براہ راست تعلق کا ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ نماز انسان کو نفس اور دنیا کے شیطانوں کے مقابلے میں مسلسل مضبوط سہارا فراہم کرتی ہے اور عشق، امید، محبت اور سکون کا سرچشمہ بھی ہے۔
نماز اور استغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور رزق میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ نماز کا قیام صالحین کی حکومت کا اولین ثمرہ اور نشانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مجرم کو غلط جگہ تلاش کررہے ہیں، برطانوی وزیر اعظم کے الزامات پر عراقچی کا ردعمل
رہبر انقلاب نے کہا کہ سورہ حج میں اللہ کی نصرت اور اس کے لیے جہاد کرنے والوں کے وعدے کے فوراً بعد آیت میں نماز کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نماز، ذکر خدا، امید اور اس پر اعتماد کا مضبوط سہارا ہونے کی حیثیت سے جہاد، فتح اور کامیابی میں خصوصی کردار رکھتی ہے، بالخصوص اس جدوجہد میں جو آج ملت ایران کے سامنے ہے۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ آج جب ایرانی عوام کے لیے قدرت اور اقتدار کی شرائط پہلے سے زیادہ فراہم ہوچکی ہیں، پوری قوم کو اللہ کے اس بار بار دیے گئے حکم «اَقیموا الصَّلاة» پر عمل کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے والدین اور خاندانوں، اساتذہ، علمی شخصیات، دانشوروں اور تمام ثقافتی اداروں کو نماز کے فروغ میں اضافی ذمہ داری کا حامل قرار دیا۔
ان کے مطابق مساجد، نماز جمعہ، مدارس، جامعات، حوزہ ہائے علمیہ، صدا و سیما، ثقافتی و سماجی کارکنان اور عوامی بسیج خصوصاً نوجوانوں اور نوعمروں سے وابستہ اداروں کا کردار اہم ہے۔
رہبر انقلاب نے نماز کے قیام کو اسلامی معاشرے میں اہم ترین امور میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ملک میں جہاں حقیقی اسلام محمدی کا پرچم بلند ہے اور اسلامی نظام قائم ہے، معاشرے میں نماز کو عام اور مستحکم کرنا نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی تحریک سے لے کر اسلامی معاشرے اور پھر اسلامی تمدن کی منزل تک پہنچنے کے لیے نماز کی وسیع پیمانے پر ترویج بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
نماز کو معاشرے میں ادارہ جاتی شکل دینا اور عام کرنا، پھر اسے بہتر انداز میں ادا کرنے کی اجتماعی کوشش، اس راستے کے دو بنیادی ستون ہیں۔
رہبر انقلاب نے مساجد کی آباد کاری، نماز جماعت اور نماز جمعہ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور ان کے ظاہری و معنوی معیار کو بہتر بنانے کو اس مقصد کے لیے ضروری اقدامات قرار دیا۔
انہوں نے ائمہ جمعہ و جماعت کے کردار کو بھی نمایاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں لوگوں کے لیے پناہ گاہ، ان کی بات سننے والے اور ان کے مسائل و دکھ درد کو قبول کرنے والے افراد ہونا چاہیے۔
رہبر انقلاب نے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت ولی عصر عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خصوصی توجہ اور دعا سے ایرانی عوام نماز کے قیام اور اس کی فیوض و برکات سے استفادہ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
The post نماز صرف انفرادی فریضہ نہیں، اسلامی حکومت کا مضبوط سہارا بھی ہے، رہبر معظم appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


