spot_img

ذات صلة

جمع

برکس کے بارے میں ہمارا رجحان غلط تھا: جرمن وزیر خارجہ کا اعتراف

تہران/ ارنا- جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیفول نے میونخ...

امریکی صدر کی ایران کو ایک اور گیڈر بھبکی

شیعہ نیوز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر...

پنجاب بھر سے 26 دہشت گرد گرفتار ، القاعدہ کا ایک رکن بھی شامل

شیعہ نیوز: لاہور سمیت پنجاب بھر کے مختلف شہروں سے 26...

نیتن یاھو نے سات اکتوبر حملے پر غیر سرکاری تحقیقاتی کمیشن بنا دی، صہیونی اپوزیشن برہم

شیعہ نیوز: صہیونی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ بنجمن نیتن یاھو کی سربراہی میں اسرائیل کی حکومت نے سات اکتوبر سنہ2023ء کے حملے کے دوران ہونے والی تمام سکیورٹی اور انتظامی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک غیر سرکاری اور بظاہر آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صہیونی سرکاری نشریات کے مطابق حکومت نے اپنے ہفتہ وار اجلاس میں اس آزاد تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کی منظوری دے دی، جو قانون میں طے شدہ سرکاری تحقیقات کی معروف کمیٹیوں جیسے ریاستی کمیشن وغیرہ کے دائرے سے باہر کام کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران نے خلیج میں آئل ٹینکر قبضے میں لینے کی تصدیق کر دی

ادارے نے بتایا کہ نئی کمیٹی کو باضابطہ ریاستی کمیٹی کا درجہ نہیں دیا جائے گا مگر اسے مکمل تحقیقاتی اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں متعلقہ اداروں کو طلب کرنا اور ضروری ریکارڈ تک رسائی شامل ہے۔

مزید کہا گیا کہ کمیٹی کے ارکان کا انتخاب ایسے طریقے سے کیا جائے گا جس سے صہیونی معاشرے کے اندر زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی کا تاثر ملے، تاہم انتخاب کے طریقہ کار کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاھو نے ایک خصوصی وزارتی کمیٹی کو نئی تحقیقاتی کمیٹی کے دائرہ اختیار کی حد بندی کا ٹاسک بھی دے دیا ہے، جس میں وہ تمام موضوعات شامل ہوں گے جن کی جانچ کی جانی ہے، کن شخصیات کو طلب کیا جا سکتا ہے اور کن ادوار کا جائزہ لیا جائے گا۔

حکومت نے اس وزارتی کمیٹی کو 45 روز کی مہلت دی ہے تاکہ وہ تحقیقاتی کمیٹی کے اختیارات و کام کے حتمی دائرہ اختیار کے تعین سے متعلق اپنی سفارشات پیش کرے۔

نئی کمیٹی کا مقصد سات اکتوبر کے واقعات، اس سے قبل اور اس دوران اختیار کی گئی سکیورٹی اور ادارہ جاتی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہے، جبکہ عملی طریقہ کار کا تعین آخری تفویضی مسودے کی منظوری کے بعد ہوگا۔

اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے صہیونی اپوزیشن کے سربراہ یائیر لاپڈ نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سچ اور ذمہ داری سے فرار چاہتی ہے، اور پورے صہیونی معاشرے میں ایک وسیع اتفاق رائے موجود ہے کہ باضابطہ سرکاری تحقیقاتی کمیٹی قائم ہونی چاہیے۔

تحالف برائے ڈیموکریٹس کے سربراہ یائیر غولان نے کہا کہ جو خود مجرم ہو وہ اپنے محقق کا تعین نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق سات اکتوبر کے واقعات کی تفتیش صرف سرکاری تحقیقاتی کمیٹی ہی کر سکتی ہے۔

سابق صہیونی آرمی چیف گادی آیزنکوٹ نے کہا کہ حکومت کسی بھی حقیقی اور آزاد تحقیقات کے نتائج سے خوفزدہ ہے، جبکہ باضابطہ ریاستی کمیشن کا قیام اصلاح اور شفا کی طرف پہلا قدم ہے۔

The post نیتن یاھو نے سات اکتوبر حملے پر غیر سرکاری تحقیقاتی کمیشن بنا دی، صہیونی اپوزیشن برہم appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img