شیعہ نیوز: لبنان کے پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے واشنگٹن میں دستخط کیے گئے معاہدے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لبنان کے حقوق کے تحفظ کا معاہدہ نہیں بلکہ ایک مسلط کردہ حکم ہے، جو ملک میں داخلی انتشار اور صہیونی حکومت کے مفادات کو تقویت دے سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ، لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے واشنگٹن میں لبنان اور صہیونی حکومت کے خلاف ہونے والے معاہدے پر کڑی تنقید کی۔
تفصیلات کے مطابق لبنانی اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کے حقوق کے تحفظ کے لیے نہیں، بلکہ ایسی شرائط پر مشتمل ہے جو لبنان پر مسلط کی گئی ہیں۔
نبیہ بری نے اس معاہدے کا موازنہ 17 مئی 1983 کے لبنان-اسرائیل معاہدے سے کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاہدہ اس سے بھی “دس گنا زیادہ خطرناک” ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیرپور : کالعدم تنظیم کا شیعہ گھروں پر حملہ ، سبیل حسین کی بے حرمتی ، ملت جعفریہ شدید اضطراب کی کیفیت میں ، فوری کاروائی کا مطالبہ
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ معاہدہ لبنان کی قومی وحدت اور داخلی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کے بقول، جب وہ اسے فتنہ قرار دیتے ہیں تو یہ ان کی جانب سے ممکنہ خطرات کے بارے میں بلند ترین سطح کا سیاسی انتباہ ہے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مزید کہا کہ آج لبنان کے پاس اپنے حقوق کی بحالی اور اسرائیل کو مکمل انخلا پر مجبور کرنے کا واحد مؤثر موقع امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ہیں، کیونکہ ان کے مطابق یہی واحد فریم ورک ایسا توازن پیدا کر سکتا ہے جو اسرائیل کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے پر مجبور کرے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان کے مسئلے کو اس سفارتی عمل سے الگ کرنا یا امریکہ اور اسرائیل کی شرائط کے مطابق اسرائیل کے ساتھ الگ مذاکرات کی راہ اختیار کرنا، صرف اسرائیلی قبضے کو طول دے گا اور دشمن کو زمینی حقائق اپنے حق میں تبدیل کرنے کا مزید موقع فراہم کرے گا، جبکہ لبنان کو اس کے بدلے کوئی حقیقی ضمانت حاصل نہیں ہوگی۔
The post واشنگٹن میں دستخط ہونے والا معاہدہ نہیں، ایک مسلط کردہ حکم ہے، نبیہ بری appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


