شیعہ نیوز: امریکی فوج کے یورپ و افریقہ کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈوناہو نے عہدہ چھوڑ دیا، جبکہ پینٹاگون میں جاری وسیع تبدیلیوں اور فوجی قیادت میں رد و بدل نے سیاسی محرکات سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی یورپ اور افریقہ میں فوجی افواج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈوناہو نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔
ان کی رخصتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے پینٹاگون میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا عمل جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق روسیا الیوم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جنرل ڈوناہو نے جمعرات کو جرمنی کے شہر ویسبادن میں واقع کلی کازرنے فوجی اڈے پر منعقدہ تقریب میں اپنی ذمہ داریاں نئے کمانڈر جنرل الیکسس گرینکویچ کے حوالے کر دیں، جو یورپ میں امریکی افواج کے کمانڈر اور نیٹو کی اتحادی افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہوں گے۔
جنرل ڈوناہو اس سے قبل امریکی فوج کی ایلیٹ ڈیلٹا فورس اور فورٹ بریگ میں 82ویں ایئر بورن ڈویژن کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔
انہیں سابق صدر جو بائیڈن نے اس منصب پر تعینات کیا تھا، تاہم وہ صرف تقریباً 18 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے، جو معمول کے مقابلے میں کم مدت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی تشییع و تعزیتی تقریبات کا آغاز
رپورٹ کے مطابق ان کا استعفی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پینٹاگون میں وسیع پیمانے پر اصلاحات اور اعلیٰ فوجی افسران کی تبدیلیوں کی بات کر رہے ہیں۔
بعض رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وہ ایسے افسران کو ہٹانا چاہتے ہیں جو ان کے متنازع یا غیر معمولی احکامات کی حمایت نہیں کرتے۔
اس سے قبل بھی امریکی وزارت دفاع بحریہ کے سربراہ جان فیلن کے استعفے کی تصدیق کر چکی ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں امریکی بارڈر پٹرول کے سربراہ کے مستعفی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
اگرچہ ایک نام ظاہر نہ کرنے والے پینٹاگون اہلکار نے جنرل ڈوناہو کے استعفے کو ذاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کسی دباؤ کی تردید کی ہے، تاہم جرمن ادارے کے مطابق پینٹاگون نے اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
مبصرین کے نزدیک یہ اقدام بائیڈن دور میں تعینات جنرلز کی تعداد کم کرنے اور فوجی کمان کے ڈھانچے کو محدود کرنے کی پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے۔
نئے کمانڈر جنرل الیکسس گرینکویچ نے بتایا کہ اس تبدیلی کے ساتھ یورپ اور افریقہ میں امریکی فوجی کمان کا درجہ دور سٹار جنرل سے کم کر کے تھری سٹار جنرل کر دیا گیا ہے، جس سے نئے کمانڈر کے اختیارات اور نیٹو کے ساتھ رابطہ کاری پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ان پیش رفتوں نے امریکی ریٹائرڈ فوجی حکام اور یورپی اتحادیوں میں یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ امریکہ بتدریج یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کم کر سکتا ہے۔
اس سے قبل بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر جرمنی سے تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
امریکی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے وسط تک یورپ میں تقریباً 86 ہزار امریکی فوجی تعینات تھے، جن میں سے قریب 39 ہزار جرمنی میں موجود ہیں۔
The post ٹرمپ انتظامیہ میں بحران برقرار، ایک اور اعلی جنرل مستعفی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


