spot_img

ذات صلة

جمع

گوتریش: دنیا کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جغرافیائی سیاسی دراروں...

اسلامی: آئی اے ای اے کے اجلاس میں میری شرکت پر پابندی کا نتیجہ حیران کن نکلا

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے...

پاکستان کے وزیر : ورلڈ کپ میں آپ کا پرستار تھا

ایران کی قومی فٹ بال ٹیم کے ارکان اور...

پسپائی؛ ایران جنگ سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے واحد راستہ؟

شیعہ نیوز: امریکی مبصرین کے مطابق واشنگٹن کو ایران جنگ میں اپنے زیادہ سے زیادہ اہداف کے حصول میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے اور اب اصل مسئلہ جنگ جاری رکھنا نہیں بلکہ اس سے سیاسی طور پر نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔

واشنگٹن میں جس جنگ کو امریکی فوجی برتری کی بنیاد پر نتیجے تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، وہ اب ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں امریکہ کے لیے اصل سوال محض فوجی کارروائی جاری رکھنا نہیں بلکہ جنگ کو ختم کرنے کا طریقہ تلاش کرنا ہے۔ کئی ماہ کی لڑائی کے باوجود واشنگٹن اپنے زیادہ سے زیادہ اہداف حاصل نہیں کرسکا جبکہ جنگ کے فوجی اور معاشی اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور فوجی امور کے تجزیہ کار ڈینیئل ڈیوس کا کہنا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ سے ایسی چیز کے ساتھ نکلنا چاہتے ہیں جسے فتح کہا جاسکے تو انہیں محض فوجی حملوں سے کہیں آگے کے اہداف حاصل کرنا ہوں گے۔ ان اہداف میں ایران کے سیاسی اور فوجی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی اور اس ملک کی میزائل و ڈرون صلاحیت کو ختم کرنا شامل ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ امریکی فوج کے پاس ایسا نتیجہ مسلط کرنے کی بنیادی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکواٹر کے سامنے،میناب کے بچوں کے موضوع پر نمائش

فوجی برتری اور سیاسی فتح میں فرق

ڈیوس کی یہ رائے محض ایک ذاتی موقف تک محدود نہیں بلکہ اس جنگ کے حوالے سے واشنگٹن کو درپیش ایک بنیادی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے، اور وہ ہے فوجی برتری اور سیاسی فتح کے درمیان فرق۔

امریکہ اپنی فضائی، بحری اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کے ذریعے ایران میں اہم اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے اور فوجی تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن اس فوجی برتری کو کسی ملک کے سیاسی رویے یا سیاسی ڈھانچے میں پائیدار تبدیلی میں تبدیل کرنا ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔

اگر امریکہ کا مقصد صرف ایران کی فوجی صلاحیت کے ایک حصے کو کمزور کرنا ہو تو واشنگٹن اپنی فوجی کارروائیوں کو کامیابی قرار دے سکتا ہے، لیکن اگر مقصد ایران کی جوابی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا، سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنا اور نیا نظام قائم کرنا ہو تو میدان جنگ میں ممکن نتائج اور سیاسی سطح پر قابل حصول نتائج کے درمیان فاصلہ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات

سرکاری اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس بھی ظاہر کرتی ہیں کہ یہ جنگ امریکہ کے لیے سستی نہیں رہی۔ امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کے تخمینے کے مطابق یکم اگست تک امریکی فوجی کارروائیوں پر تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے اور اس رقم میں اوسطاً ہر ماہ تقریباً 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہورہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ میں بھی بعض ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی اور اسلحے کی پیداوار و دوبارہ فراہمی کی صلاحیت میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

دوسری جانب امریکی کانگریس کی تحقیقی سروس کی جانب سے کیے گئے جائزے کے مطابق ستمبر 2026 میں جنگ عملا تھکن اور فرسودگی کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود اس کے پاس حملے جاری رکھنے کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے شراکت داروں کو فوجی صلاحیت، معاشی اخراجات اور سیاسی دباؤ کے حوالے سے مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔

اس رپورٹ میں واشنگٹن کے سامنے چار بنیادی راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے: موجودہ صورت حال کو جاری رکھنا، جنگ بندی کرنا، فوجی کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کرنا یا کسی وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا۔

ٹرمپ کے لیے جنگ کا اختتام ایک اسٹریٹجک معمہ

اہم مسئلہ یہ ہے کہ جنگ جاری رکھنے سے ضروری نہیں کہ امریکہ کی فوجی صلاحیت اور سیاسی اہداف کے درمیان موجود فاصلہ کم ہوجائے۔ حملوں میں اضافہ ایران کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ امریکی اخراجات بھی بڑھیں گے اور خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی زیادہ ہوگا۔

حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے یا دوبارہ شروع کرنے کے معاملے پر تذبذب کا شکار رہا ہے۔ ٹرمپ نے 17 ستمبر کو جنگ کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آئندہ فوجی کارروائی کے راستے کے حوالے سے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اسی صورت حال میں امریکہ کی ہتھیاروں سے متعلق صلاحیت کا معاملہ بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ حالیہ رپورٹس میں بعض ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی اور امریکی پیداواری صلاحیت پر دباؤ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایران جنگ تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممکنہ بحرانوں، بالخصوص بڑی طاقتوں کے ساتھ تنازعات کے دوران واشنگٹن کی فوجی تیاریوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

اس تناظر میں ڈیوس کی جانب سے استعمال کی جانے والی پسپائی کی اصطلاح محض امریکی فوجیوں کے خطے سے جسمانی انخلا کے معنی میں نہیں ہے۔ اصل مسئلہ جنگ سے سیاسی طور پر نکلنے کا ایسا راستہ تلاش کرنا ہے جس کے ذریعے واشنگٹن کھلے طور پر شکست تسلیم کیے بغیر فوجی کارروائی روک سکے اور جنگ کے نتیجے کو کسی معاہدے یا نئے علاقائی انتظام کی صورت میں پیش کرسکے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ایران جنگ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اسٹریٹجک معمہ بن جاتی ہے۔ جنگ جاری رکھنے سے ایران پر مزید دباؤ ڈالا جاسکتا ہے، لیکن اس سے امریکہ کے زیادہ سے زیادہ اہداف کے حصول کی کوئی ضمانت نہیں ملتی۔ دوسری جانب پسپائی یا جنگ بندی قبول کرنے کو امریکی سیاسی ماحول میں ابتدائی طور پر اعلان کیے گئے اہداف سے پیچھے ہٹنے کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

حاصل سخن

واشنگٹن کے لیے اصل چیلنج اب صرف یہ نہیں کہ امریکہ مزید حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ حملے امریکہ کے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

ڈینیئل ڈیوس کا موقف اسی فرق پر مرکوز ہے کہ کوئی ملک میدان جنگ میں فضائی اور ہتھیاروں کی برتری رکھ سکتا ہے، لیکن اس برتری کو اپنے مطلوبہ سیاسی نتائج میں تبدیل کرنے میں ناکام رہ سکتا ہے۔

اس تناظر میں اگر واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ جنگ کے زیادہ سے زیادہ اہداف فوجی ذرائع سے حاصل نہیں کیے جاسکتے تو پسپائی کا مطلب ایران پر دباؤ کا خاتمہ نہیں بلکہ براہ راست جنگ سے مذاکرات، پابندیوں اور علاقائی دباؤ کی جانب منتقلی ہوسکتا ہے۔

آخرکار جنگ کا اختتام کس طرح ہوگا، اس کا فیصلہ صرف امریکہ کی مزید حملے جاری رکھنے کی صلاحیت سے نہیں بلکہ جنگ جاری رکھنے کی لاگت اور اس سے حاصل کیے جاسکنے والے سیاسی نتائج کے درمیان موجود فاصلے سے ہوگا۔

The post پسپائی؛ ایران جنگ سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے واحد راستہ؟ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img