شیعہ نیوز: خلیج فارس میں کشیدگی اور سعودی تیل کی برآمدات میں رکاوٹوں کے بعد امریکہ نے جولائی کے دوران سعودی عرب سے خام تیل کی درآمد مکمل طور پر روک دی، جو 1985 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ توانائی کے ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی میں سعودی خام تیل کی امریکی درآمدات صفر رہیں، جو تقریباً چالیس برسوں میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا لیزر دفاعی نظام؛ فضائی دفاع کا نیا باب یا محض دعویٰ؟
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز میں امریکی ریفائنریاں روزانہ 8 لاکھ بیرل سے زائد سعودی خام تیل درآمد کر رہی تھیں، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، خلیج فارس میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یہ درآمدات مکمل طور پر معطل ہو گئیں۔
اسی تناظر میں امریکی آئل ریفائننگ کمپنی فلپس 66 نے بھی اپنی ریفائنریوں میں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے تیل کا حصہ کم کرکے ایک فیصد سے بھی نیچے کر دیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو سال کے آغاز میں تقریباً ایک لاکھ بیرل یومیہ تھیں، جبکہ اب بڑھ کر چھ لاکھ بیرل یومیہ کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
The post چار دہائیوں بعد سعودی تیل کی امریکی درآمدات صفر ہو گئیں appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


