شیعہ نیوز: صہیونی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ خلیج فارس میں اپنے بعض فوجی اڈوں کی منتقلی کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے، جسے خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور ایران۔امریکہ چالیس روزہ جنگ کے بعد نئی دفاعی حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
چالیس روزہ ایران۔امریکہ جنگ کے بعد خطے کی سکیورٹی صورت حال میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے خلیج فارس میں اپنے بعض فوجی اڈوں کی ممکنہ منتقلی پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ معاملہ فی الحال مطالعاتی مرحلے میں ہے، تاہم اس کے تزویراتی اثرات محض فوجی نقل و حرکت تک محدود نہیں بلکہ یہ خطے میں امریکی دفاعی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے معاملے پر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں شدید کشیدگی، امریکی میڈیا
رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان چالیس روزہ جنگ نے مغربی ایشیا کی روایتی سکیورٹی مساوات کو تبدیل کر دیا ہے اور واشنگٹن کو اپنے فوجی اڈوں کی سلامتی کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ خلیج فارس میں اپنی وسیع فوجی موجودگی کو مغربی ایشیا میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ تصور کرتا رہا ہے۔ قطر، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں قائم فضائی، بحری اور لاجسٹک اڈوں کا جال اس انداز میں تشکیل دیا گیا تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری فوجی کارروائی ممکن ہو سکے۔
یہ دفاعی ڈھانچہ اس تصور پر قائم تھا کہ یہ فوجی اڈے نسبتاً محفوظ رہیں گے اور کسی بھی ممکنہ تنازع کے دوران امریکہ اپنے بنیادی فوجی انفراسٹرکچر کو بڑے خطرات سے محفوظ رکھتے ہوئے آپریشنز کی قیادت کر سکے گا۔ تاہم حالیہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی علاقائی صورتحال نے ان مفروضات کو ازسرنو جانچنے کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے، جس کے باعث امریکی فوج اپنی دفاعی پوزیشن اور خطے میں موجودگی کے نئے طریقۂ کار کا جائزہ لے رہی ہے۔
چالیس روزہ جنگ کے بعد امریکی فوجی اڈوں کی نئی حکمت عملی
حالیہ جنگ نے اس مفروضے کو شدید شکوک و شبہات سے دوچار کر دیا۔ پہلی بار خطے میں امریکہ کے متعدد اہم فوجی اڈے براہ راست میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آئے۔ ان حملوں سے ہونے والے نقصان کی نوعیت سے قطع نظر، سب سے اہم بات یہ تھی کہ ایران نے خطے کے وسیع حصے میں امریکی اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اپنی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس پیش رفت نے واضح کر دیا کہ ایران کی سرحدوں کے قریب واقع امریکی اڈوں کی جغرافیائی قربت اب آپریشنل برتری کے بجائے ایک تزویراتی کمزوری بن چکی ہے۔
امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق رپورٹیں بھی بتدریج منظر عام پر آئیں، جس سے اس معاملے کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اگرچہ واشنگٹن نے ان نقصانات کی تفصیلات کو محدود رکھنے کی کوشش کی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر، میڈیا رپورٹس اور تحقیقی اداروں کے تجزیوں نے امریکی فوجی اڈوں کی کمزور سکیورٹی کو دفاعی حلقوں میں ایک اہم موضوع بنا دیا۔ اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ آیا ان اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ ان کی کمزوری سے پیدا ہونے والی قیمت کو کس طرح کم کر سکتا ہے۔
اسی تناظر میں صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ کی یہ رپورٹ کہ خلیج فارس سے بعض امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی پر غور کیا جا رہا ہے، محض ایک لاجسٹک فیصلہ نہیں بلکہ واشنگٹن کی سکیورٹی حکمت عملی پر ازسرنو غور و فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ فوجی اڈوں کی منتقلی یا نئی ترتیب اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ماضی کی عسکری ساخت موجودہ سکیورٹی ماحول کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہی۔ جب کوئی فوجی طاقت اپنے اہلکاروں اور عسکری سازوسامان کے تحفظ کے لیے انہیں خطرے کے علاقے سے زیادہ فاصلے پر منتقل کرنے پر مجبور ہو جائے تو یہ دراصل طاقت کے توازن میں آنے والی تبدیلی کا اعتراف ہوتا ہے۔
امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی کے ممکنہ اثرات
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ڈیٹرنس کا مطلب صرف جنگ کو روکنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ایک بنیادی معیار یہ بھی ہے کہ مخالف فریق کو اپنے طرزعمل، فوجی حکمت عملی یا عسکری تعیناتی میں تبدیلی پر مجبور کر دیا جائے۔ اگر امریکہ اپنے بعض فوجی اڈے نسبتاً دور دراز علاقوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے ردعمل کا وقت بڑھ جائے گا، رسد اور سپلائی کا نظام مزید پیچیدہ ہو جائے گا، لاجسٹک اخراجات میں اضافہ ہوگا اور آپریشنل لچک بھی متاثر ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں، نئی جنگ کے بغیر بھی ایران امریکہ پر بعض تزویراتی اخراجات عائد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
دوسری جانب، فوجی اڈوں کی ممکنہ منتقلی کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان اڈوں کی میزبانی کرنے والے خلیجی ممالک کو بھی خطے کے مستقبل کے سکیورٹی انتظامات کے بارے میں نئے سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گزشتہ کئی برسوں سے امریکی فوجی موجودگی کو ان ممالک کی سلامتی کی اہم ضمانت سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگر اس موجودگی کی نوعیت یا مرکزیت میں تبدیلی آتی ہے تو علاقائی ممالک کو بھی اپنی دفاعی اور سکیورٹی حکمتِ عملی پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔
تاہم یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ فوجی اڈوں کی منتقلی کا مطلب امریکہ کا خطے سے انخلا نہیں ہے۔ واشنگٹن کے مغربی ایشیا میں اب بھی وسیع تزویراتی مفادات موجود ہیں، اس لیے اس کے مکمل فوجی انخلا کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ البتہ اہم تبدیلی یہ ہے کہ اگر پہلے امریکہ اپنی فوجی کارروائیوں کا فیصلہ صرف اپنے آپریشنل اہداف کو سامنے رکھ کر کرتا تھا، تو اب اسے ہر فیصلے سے قبل اپنے ہی فوجی اڈوں کی کمزوری اور ان کے ممکنہ خطرات کو بھی اپنی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ بظاہر یہ ایک جغرافیائی تبدیلی محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ خطے میں بازدارندگی کے بدلتے ہوئے توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
حاصل سخن
آخرکار، اگر امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی کا منصوبہ مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہ بھی کرے، تب بھی اس امکان پر غور کیا جانا خود ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چالیس روزہ جنگ محض ایک عارضی فوجی تصادم نہیں تھی، بلکہ اس نے امریکہ کے سکیورٹی اور دفاعی حساب کتاب پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
جب امریکہ جیسی بڑی فوجی طاقت اپنے اڈوں کے مقام اور تعیناتی پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن پہلے کے مقابلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کی اصل تزویراتی اہمیت فوجی اڈوں کی ممکنہ منتقلی کی خبر میں نہیں، بلکہ اس ضمنی اعتراف میں پوشیدہ ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت اب خطے میں امریکی فوجی حکمت عملی اور دفاعی صف بندی کی تشکیل میں ایک فیصلہ کن عنصر بن چکی ہے۔
The post چالیس روزہ جنگ کے بعد خلیج فارس میں امریکی فوجی حکمت عملی کی ازسرنو ترتیب کا جائزہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


