spot_img

ذات صلة

جمع

کراچی، ایرانی قونصل خانے میں ’’شجرہ طیبہ اسکول‘‘ میناب کے شہید طلبہ کی یاد میں پُروقار تقریب کا انعقاد

شیعہ نیوز: شہر قائد میں واقع جمہوریہ اسلامی ایران کے قونصل خانے میں میناب کے شہید طلبہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک پُروقارتعزیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور ایران کے قومی پرچم کے سائے میں قومی ترانے سے ہوا۔ اس موقع پر کراچی میں واقع ایرانی اسکول کے طلبہ کے ادبی و فنی شاہکار اور دلی جذبات کے اظہار پر مشتمل نمائش “میناب کے طلبہ کے خواب” بھی منعقد ہوئی۔ تقریب کی نمایاں خصوصیت شہید طلبہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا، جس میں اسکول کی اہمیت کو علم کے حصول، تربیت اور ملک کی آنے والی نسل کی پرورش کے مرکز کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ تقریب کے دوران کراچی میں واقع ایرانی اسکول کے بچوں نے ’’دفاع وطن‘‘ کے عنوان سے شہدائے میناب کی کلاس روم کا منظر پیش کیا اور شہید طلبہ کی یاد تازہ کرنے کی غرض سے ان کی تصاویر کو علامتی کلاس روم میں نصب کیا گیا۔

کراچی میں ایران کے قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ نے اپنے خطاب کے دوران میناب کے “شجرہ طیبہ” اسکول کے شہید طلبہ کے حوالے سے کہا کہ اس تقریب کا مقصد ان تمام عزیز طلبہ اور ان کے شہید اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف غیر قانونی جارحیت کے پہلے ہی دن مظلومانہ طور پر شہید ہوئے تھے۔ انہوں نے ہفتہ دفاعِ مقدس کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں صدام نے بھی مغربی دنیا کی پشت پناہی سے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ ایرانی قوم کو جھکانے میں کامیاب ہو جائے، لیکن وہ خاص تفکر اور ثقافت کو آج ہم ’بسیجی فکر‘ کے نام سے جانتے ہیں، وہ اس کے راستے کی رکاوٹ بنی اور دشمن کو اس کے اہداف حاصل نہ کرنے میں کامیاب نہ ہونے دیا”۔ ایرانی قونصل جنرل نے ایران میں عام شہریوں، میناب کے طلبہ اور غزہ کے مظلوموں کے خلاف امریکی اور صیہونی ظلم و بربریت پر بین الاقوامی برادری کی بے حسی اور منافقانہ معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ان انسانیت سوز اقدامات کو روکنے کیلئے سخت اور فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے۔

اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ ایران کے خلاف خلاف صیہونی رژیم اور امریکا کی اس بلاجواز جارحیت اور وحشیانہ حملات کے آغاز سے ہی ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے لوگوں نے کیسی دیدہ دلیری سے ملت ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، جو بلاشبہ دونوں قوموں کے دیرینہ تعلقات کا مظہر ہے۔ ایرانی قونصل نے کہا کہ پاکستان کے ارباب اختیار نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے فرائض انجام دینے کی ٹھان رکھی ہے اور خطے میں استحکام کی فضا قائم کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں، جو کہ قابلِ تحسین ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی یومِ طوفانِ الاقصیٰ کی مناسبت سے تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفیٰؐ کے زیرِ اہتمام کراچی میں طوفان الاقصیٰ مارچ کا انعقاد

برصغیر، مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا میں واقع ایرانی اسکولوں کے سرپرست آقائے امیر شوشتری نے بھی میناب کے شہید طلبہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے وارث ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ علمی مدارج طے کرتے ہوئے ملک کی ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوں اور اپنے عہد کا پابند رہیں۔ انہوں نے اساتید کو بھی تاکید کی کہ وہ آنے والی نسل کی تعلیم و تربیت پر شایانِ شان توجہ دیں۔

تقریب کی دیگر اہم مہمانوں میں محترمہ شہربانو والاجاہی شامل تھیں، جو سوشل سروسز کی ایک معروف شخصیت ہیں، انہوں نے اپنے خطاب میں حضرت امام خمینیؒ کی تحریک کے نتیجے میں آنے والے انقلابِ اسلامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم شہید کی جانب سے تقریباً چار دہائیوں تک اس انقلاب کی حفاظت و پاسداری ایک انتہائی قابل قدر امر یے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ زندہ رہنا اہم ہے، لیکن آیت اللہ خامنہ ای نے اتحاد و یکجہتی کے فروغ کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور اپنے خاص ظرز زندگی سے جہاد کا طریقہ سکھایا اور اپنی شہادت سے حق و باطل کے درمیان تمیز کا معیار قائم کیا۔ اس موقع پر کراچی میں خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کے سرپرست آقائ قاسم مرادی بھی موجود تھے۔ تقریب کے اختتام پر قونصل خانہ کی جانب سے ان طلبہ میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے، جنہوں نے اپنے ادبی و فنی شاہکاروں کے ذریعے اس نمائش میں حصہ لیا اور نمایاں پوزیشن حاصل کی۔

 

The post کراچی، ایرانی قونصل خانے میں ’’شجرہ طیبہ اسکول‘‘ میناب کے شہید طلبہ کی یاد میں پُروقار تقریب کا انعقاد appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img