شیعہ نیوز: رہبر شہید انقلاب اسلامی شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تشییع کی تقریب کو عالمی میڈیا نے نمایاں انداز میں کوریج دی جبکہ متعدد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے غیر ملکی وفود، عوامی شرکت اور علاقائی اثرات کو اپنی رپورٹوں کا محور بنایا۔
رپورٹ کے مطابق شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تشییع اور وداع کی تقریب کو عالمی ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔ تقریب کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں نے لمحہ بہ لمحہ رپورٹیں، تصاویر، ویڈیوز اور تجزیے نشر کرتے ہوئے اسے عالمی خبروں میں نمایاں مقام دیا۔
لبنانی ٹی وی چینل المیادین نے اپنی رپورٹ میں تقریب میں شریک غیر ملکی وفود کی موجودگی کو نمایاں کرتے ہوئے اس تقریب کی بین الاقوامی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ترکی کی خبر رساں ایجنسی اناتولی، ٹی آر ٹی اور دیگر اخبارات و آن لائن ذرائع ابلاغ نے مختلف ممالک کے صدور، اعلیٰ حکام اور غیر ملکی وفود کی شرکت کو نمایاں کرتے ہوئے اسے خطے کا اہم سیاسی اور سفارتی واقعہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی کانگریس کی رکن کا اسرائیل پر فوری اسلحہ پابندی عائد کرنے کا مطالبہ
ترک میڈیا کے تجزیوں میں تقریب کے علاقائی اثرات، ایران کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس تقریب کی وسیع کوریج دیکھنے میں آئی۔
روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے اپنی رپورٹ میں تقریب کے سکیورٹی انتظامات اور عوامی شرکت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ تہران میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے ساتھ رہبر شہید کی آخری رسومات جاری ہیں۔ رپورٹ میں پاسداران انقلاب کی جانب سے عوام کو بھرپور شرکت کی اپیل، مسلح افواج کی مکمل تیاری اور نجف، کربلا اور مشہد میں بھی تقریبات کے انعقاد کا ذکر کیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے کئی روزہ تشییعی پروگرام، غیر ملکی رہنماؤں اور اعلیٰ حکام کی شرکت اور ایران کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں شیعہ مذہبی روایات، عزاداری اور شہادت کی علامتوں کا بھی ذکر کیا گیا اور سیاہ پرچموں کو واقعہ کربلا اور امام حسین علیہ السلام سے منسلک علامت قرار دیا گیا۔
چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ تہران میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں عوام کی بڑی تعداد کے ساتھ مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد ممالک کے نمائندے، جن میں صدور، پارلیمانی سربراہان، وزرائے خارجہ، خصوصی ایلچی اور دیگر سیاسی شخصیات شامل تھیں، رہبر شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تہران پہنچے۔
شِنہوا نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے اس تقریب کو ایک تاریخی اور اہم عالمی واقعہ قرار دیا اور کہا کہ غیر ملکی وفود کی وسیع شرکت رہبر شہید کی بین الاقوامی حیثیت کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ عوام اور مہمانوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر تہران میں خصوصی انتظامات کیے گئے اور بعض عوامی مقامات عارضی طور پر بند رکھے گئے۔
چین کے دیگر ذرائع ابلاغ، جن میں سی جی ٹی این، چائنا ڈیلی اور گلوبل ٹائمز شامل ہیں، نے بھی تقریب کو اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شمار کیا اور مختلف ممالک کے وفود کی شرکت کو ایران کی خارجہ اہمیت کا مظہر قرار دیا۔
یورو نیوز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایران نے رہبر شہید کی تشییع کے لیے درجنوں غیر ملکی رہنماؤں کی میزبانی کی، تاہم مغربی ممالک کے رہنما اس تقریب میں شریک نہیں تھے۔
The post شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تشییع عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز، غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں وسیع کوریج appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


