شیعہ نیوز: پاکستان کے معاشرے میں تکفیری وہابی ناسورکی طرح گند گھول رہے ہیں ، افسوس آئے دن مساجد ومدارس میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی کے تشویش ناک واقعات سامنے آرہے ہیں لیکن حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس گناہ کی روک تھام کیلئے کوئی ٹھوس اور موثراقدام نہیں اٹھا رہے۔
ایسا ہی ایک اور افسوس ناک واقعہ گذشتہ دنوں ضلع جھنگ میں پیش آیا جہاں مسجد اللہ اکبر واقع موضع شاہ صادق نہنگ میں حفظ قرآن کے ایک معصوم طالب علم کو اسی کے استاد نے جنسی ہوس کا نشانہ بناڈالا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تحصیل شور کوٹ سٹی ضلع جھنگ میں قائم مسجد اللہ اکبر میں حفظ قرآن کے مدرسے میں زیر تعلیم 12 سالہ بچے محمد قاسم ولد قاری محمد اعجازکو مسجد سے متصل مدرسے میں اس کے استاد قاری حافظ ظفر اقبال ولد غلام شبیر نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
بچے کے ماموں محمد یونس کی جانب سے پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں کہاگیا ہے کہ ،30 جون 2026 کی صبح سویرے بچہ معمول کے مطابق درس پڑھنے مدرسے گیا ، 11 بجے صبح میں اپنے دوست اختر عباس کے ہمراہ مذکورہ مدرسے پہنچا تو کمرے سے شور وواویلا کی آوازیں سنائی دیں، دروازہ کھول کردیکھا گیا تو ملزم قاری ظفر اقبال نے اپنی اور میرے بھانجے کی شلواریں اتاری ہوئیں تھی اور میرے بھانجے کو منہ کے بل زمین پر لٹایا ہوا تھا اور بد فعلی کررہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : زائرین ایران و عراق کیلئے زمینی راستے فی الفور کھولے جائیں، علامہ مقصود ڈومکی
محمد یونس کے مطابق ہمارے وہاں پہنچنے پر مذکورہ ملزم موقع سے شلوار اٹھا کر فرار ہوگیا اور بعد ازاں کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی نہ کرنے کیلئے منت سماجت کرتا رہا۔ بعدازاںتھانہ شورکوٹ سٹی میں محمد یونس کی مدعیت میں پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376iii کے تحت مقدمہ درج کرکے قانونی کاروائی کا آغاز کردیا ہے ۔
واضح رہےکہ ضلع جھنگ کوملک دشمن کالعدم دہشت گرد تکفیری وہابی تنظیم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی اپنا گڑھ قرار دیتی ہے اور مذکورہ مدرسہ بھی اسی کے زیر انتظام ہے اور ملزم قاری ظفر اقبال بھی کالعدم سپاہ صحابہ کا ہی مقامی رہنما ہے ۔
The post جھنگ، کالعدم سپاہ صحابہ کے مولوی حافظ ظفراقبال کی حفظ قرآن میں مصروف نابالغ بچے کے ساتھ مدرسے میں جنسی زیادتی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


