شیعہ نیوز: اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے امریکی حملوں، جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکہ کے حالیہ حملوں، جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط ارسال کیا ہے۔
اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے منشور اور اپنے بین الاقوامی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف وسیع فوجی حملے کیے ہیں اور جنوبی ایران، خصوصاً بوشہر اور خلیج فارس کے متعدد ایرانی جزائر کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان اسرائیل فریم ورک معاہدے کی ایک شق بھی نافذ نہیں ہونے دیں گے، شیخ نعیم قاسم
ایروانی نے کہا کہ یہ جارحانہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 کی صریح خلاف ورزی ہیں، جبکہ یہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کے تحت امریکہ نے بغیر کسی شرط کے ایران کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں روکنے اور طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنے کا عہد کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے بار بار اور دانستہ طور پر ان وعدوں کی خلاف ورزی کرکے عملی طور پر مفاہمتی یادداشت کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے تمام قانونی اور سیاسی نتائج کی مکمل بین الاقوامی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔
ایرانی مندوب نے بتایا کہ 8 جولائی 2026 کی صبح جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے دوران بندرعباس اور بوشہر میں امریکی میزائل حملوں کے نتیجے میں ایران کی فضائیہ اور بحریہ کے آٹھ اہلکار وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
ایروانی نے اپنے خط میں زور دیا کہ ایران ان سنگین جرائم، امریکہ کی مسلسل جارحیت، اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر فوجی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اور ایران کی خودمختاری کے خلاف مسلسل طاقت کا استعمال عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ایران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلاتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امریکہ کی جارحانہ کارروائیاں رکوانے، مزید کشیدگی کو روکنے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر امریکہ کو جواب دہ بنانے کے لیے فوری، موثر اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔
خط کے اختتام پر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ سلامتی کونسل کی بروقت اور موثر کارروائی میں ناکامی نے امریکہ کو مزید غیر قانونی طاقت کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی ہے، جس سے نہ صرف سلامتی کونسل کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ عالمی امن و سلامتی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
The post امریکی حملوں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی پر ایران کا سلامتی کونسل کو خط appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


