شیعہ نیوز: بلومبرگ کے مطابق چالیس روزہ جنگ نے ثابت کیا کہ صرف فوجی برتری سیاسی اور تزویراتی کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتی، جبکہ واشنگٹن کے غلط اندازوں، غیر حقیقت پسندانہ اہداف اور کمزور حکمت عملی نے اسے مطلوبہ نتائج سے محروم رکھا۔
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ایران پر مسلط کردہ امریکی اور صہیونی حکومت کی چالیس روزہ جنگ اور اس کے بعد کے حالات نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کر دی کہ صرف فوجی طاقت کسی ملک کو سیاسی اور تزویراتی کامیابی نہیں دلا سکتی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی جدید فوجی ٹیکنالوجی، عسکری صلاحیتوں اور پیچیدہ آپریشنز پر انحصار کرتے ہوئے یہ تصور کر رہے تھے کہ وہ مختصر مدت میں ایران کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، لیکن جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات نے واضح کر دیا کہ واشنگٹن کے ابتدائی اندازے بنیادی طور پر غلط مفروضوں پر قائم تھے۔
بلومبرگ نے اپنے ایک تجزیے میں ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی ناکامی کو 6 بڑی اسٹریٹجک غلطیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ یہی غلطیاں تھیں جن کی وجہ سے امریکی فوجی کامیابیاں سیاسی اور تزویراتی فتح میں تبدیل نہ ہو سکیں۔ امریکہ کی سب سے بڑی ناکامی میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ حکمتِ عملی، فیصلہ سازی اور مخالف فریق کو سمجھنے کے مرحلے میں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : ترک عدالت نے نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا
پہلی غلطی: مختصر جنگ کا تصور
بلومبرگ کے مطابق واشنگٹن کی پہلی بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے جنگ کے جلد اختتام کا اندازہ لگایا۔ امریکی پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ شدید ابتدائی حملے اور فوجی دباؤ ایران کے فیصلہ سازی کے نظام کو مفلوج کر دیں گے اور تہران جلد نئی شرائط قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ تاہم حالات اس کے برعکس ثابت ہوئے۔ ایران نے نہ صرف اپنی کمانڈ اور کنٹرول کی صلاحیت برقرار رکھی بلکہ اپنی قیادتی اور انتظامی ساخت کو تیزی سے منظم کیا، کارروائیاں جاری رکھیں اور داخلی اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے جنگ کو ایک طویل اور تھکا دینے والے مرحلے میں تبدیل کر دیا۔ اس تبدیلی نے امریکہ کے ابتدائی اندازوں کو شدید متاثر کیا اور واشنگٹن کے سیاسی و فوجی اخراجات میں اضافہ کر دیا۔
دوسری غلطی: ایران کے فیصلہ سازی کے نظام کو نہ سمجھنا
امریکہ ایران کے سیاسی اور عسکری فیصلہ سازی کے منطق کو درست طور پر سمجھنے میں ناکام رہا۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور رہنماؤں کو نشانہ بنانے سے ایران کا سیاسی اور دفاعی نظام کمزور ہو جائے گا، لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ایسے اقدامات سے نہ صرف ایران پیچھے نہیں ہٹا بلکہ داخلی یکجہتی، مزاحمت کے جذبے اور جنگ جاری رکھنے کے عزم میں اضافہ ہوا۔
بلومبرگ کے مطابق جنگ نے ظاہر کیا کہ ایران کا فیصلہ سازی کا نظام کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں بلکہ اداروں، تجربات اور متبادل انتظامی ڈھانچوں کے ایک وسیع نیٹ ورک پر قائم ہے۔
تیسری غلطی: خطرناک امکانات کو نظر انداز کرنا
بلومبرگ نے امریکہ کی ایک اور بڑی غلطی کو ممکنہ خطرناک نتائج کے لیے مناسب تیاری نہ کرنا قرار دیا ہے۔ واشنگٹن نے بہترین ممکنہ صورت حال کو زیادہ اہمیت دی، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحران، توانائی کی قیمتوں میں اضافے، عالمی تجارت میں خلل اور جنگ کے پھیلاؤ جیسے امکانات کو مکمل طور پر نہیں پرکھا۔ جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ واضح ہوا کہ بحران کے معاشی اور جغرافیائی سیاسی اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت اور امریکہ کے اتحادی بھی اس سے متاثر ہوئے۔ یہ صورت حال واشنگٹن کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کی آزادی کو محدود کرنے کا سبب بنی۔
چوتھی غلطی: اہداف اور وسائل میں تضاد
بلومبرگ کے مطابق امریکہ نے اپنے دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ بڑے اہداف مقرر کر لیے تھے۔ واشنگٹن کا مقصد ایران کے اسٹریٹجک رویے کو تبدیل کرنا اور اسے جغرافیائی سیاسی سطح پر پسپائی پر مجبور کرنا تھا، لیکن عملی طور پر امریکہ ایک وسیع زمینی جنگ میں داخل ہونے اور اس کی بھاری قیمت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ عراق اور افغانستان کے تجربات نے بھی امریکہ کو زمینی جنگ کے نقصانات سے آگاہ کر رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی اہداف اور دستیاب ذرائع میں موجود فرق نے فوجی کارروائیوں کو مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنے سے روک دیا۔
پانچویں غلطی: فیصلہ سازی میں اتفاقِ رائے کی کمزوری
بلومبرگ کے مطابق امریکہ کی ایک اہم کمزوری فیصلہ سازی کے عمل میں بھی سامنے آئی۔ محدود مشاورتی حلقے میں فیصلے کیے گئے، جہاں مختلف آرا، تنقیدی جائزوں اور متبادل امکانات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ نتیجتاً امریکی پالیسی ساز زمینی حقائق کے بجائے خوش فہمی اور اپنی پسندیدہ پیش گوئیوں پر زیادہ انحصار کرتے رہے، جس سے بڑے پیمانے پر غلط اندازے پیدا ہوئے۔
چھٹی غلطی: حکمت عملی کی جگہ فوجی طاقت پر انحصار
بلومبرگ کے مطابق آخری اور شاید سب سے اہم غلطی یہ تھی کہ امریکہ نے جامع حکمت عملی کے بجائے فوجی طاقت اور سیاسی جبلت پر زیادہ بھروسہ کیا۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ عسکری برتری خود بخود سیاسی کامیابی میں تبدیل ہو جائے گی، لیکن وہ وقتی فوجی کامیابی اور حقیقی تزویراتی فتح کے فرق کو نظر انداز کر بیٹھا۔ فوجی حملے نقصان ضرور پہنچا سکتے ہیں، لیکن واضح سیاسی منصوبے اور طویل المدت حکمتِ عملی کے بغیر یہ نقصانات لازماً مخالف فریق کے رویے میں تبدیلی کا باعث نہیں بنتے۔ ایران کے ساتھ جنگ نے اسی حقیقت کو نمایاں کر دیا۔
ایران کی طاقت؛ امریکہ کے اندازوں کی ناکامی کا سبب
چالیس روزہ جنگ نے صرف ایک فوجی کارروائی کی ناکامی کو ظاہر نہیں کیا بلکہ واشنگٹن کے اس فیصلہ سازی ماڈل کی کمزوری بھی سامنے لے آئی، جو یہ سمجھتا ہے کہ زیادہ فوجی طاقت حریف کو سمجھنے کا متبادل بن سکتی ہے۔ ایران نے اس جنگ میں ثابت کیا کہ قومی طاقت صرف فوجی سازوسامان کا نام نہیں ہے۔ سیاسی اتحاد کا تحفظ، کمانڈ نظام کا تسلسل، ڈھانچوں کی فوری بحالی، مضبوط ڈیٹرنس صلاحیت، فوجی اور سیاسی محاذوں کو بیک وقت سنبھالنے کی صلاحیت اور بحرانوں کو کنٹرول کرنے کی استعداد ایسے عوامل تھے جنہوں نے عملی پہل ایران کے ہاتھ میں رکھی۔ اسی وجہ سے امریکی دباؤ اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل نہ کر سکا۔ نہ ایران کا فیصلہ سازی نظام منہدم ہوا، نہ مزاحمت کا عزم کمزور پڑا اور نہ ہی واشنگٹن اپنے زیادہ سے زیادہ اہداف حاصل کر سکا۔
اس کے برعکس امریکہ کو سیاسی، معاشی اور عالمی ساکھ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی بازدارانہ طاقت پر بھی سوالات اٹھے۔
نتیجہ
بلومبرگ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ فوجی طاقت اگرچہ محدود کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے، لیکن واضح حکمتِ عملی، حریف کی درست شناخت اور اہداف و وسائل کے درمیان توازن کے بغیر وہ پائیدار فتح حاصل نہیں کر سکتی۔ چالیس روزہ جنگ نے ثابت کیا کہ ایران کی اصل طاقت صرف میزائل صلاحیت یا عسکری وسائل نہیں بلکہ مضبوط تزویراتی سوچ، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت، قومی اتحاد اور بحرانوں کے مؤثر انتظام میں ہے۔ جب تک واشنگٹن ایران کی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں، تزویراتی صلاحیتوں اور فیصلہ سازی کے بنیادی منطق کو نظر انداز کرتا رہے گا، ماضی کی انہی غلطیوں کے دوبارہ دہرائے جانے کا امکان برقرار رہے گا۔ ایسی غلطیاں نہ صرف امریکہ کو اپنے مقاصد کے حصول سے دور رکھیں گی بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر ایران کی تزویراتی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
The post ایران کے مقابلے میں امریکہ کی 6 اسٹریٹجک غلطیاں، بلومبرگ کا تجزیہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


