شیعہ نیوز: برطانیہ میں قائم فلسطینی فورم نے فلسطینی کمیونٹی، عرب اور مسلمان تارکینِ وطن، یکجہتی کارکن اور برطانیہ کے انصاف پسند شہریوں نے دارالحکومت لندن کے وسط میں واقع ’راسل اسکوائر‘ میں فلسطین کے حق میں ہونے والے قومی مارچ میں بھرپور شرکت کی۔
فورم نے اپنے بیان میں وضاحت کی ہے کہ یہ مارچ غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کو روکنے، جارحیت کے خاتمے، قابض اسرائیلی حکومت پر پابندیاں عائد کرنے اور جنگی جرائم میں برطانوی حکومت کی ہر قسم کی ملی بھگت کو ختم کرنے کے مطالبات کے ساتھ نکالا جا رہا ہے۔
فورم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اپیل غزہ کی پٹی میں جاری انسانی تباہی، قتل و غارت، بھوک، جبری نقل مکانی اور ہزاروں فلسطینی اسیروں کو انتہائی کٹھن حالات میں قید رکھنے کے تناظر میں کی گئی ہے۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی دباؤ جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ برطانوی حکومت اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں : اردن میں حملے کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتہ، امریکی سینٹرل کمان کی تصدیق
فورم نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اسیروں اور قیدیوں کے حوالے سے بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) کو ان کی انسانی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیے عالمی یومِ عمل میں شامل ہوں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام فلسطینی اسیروں کے لیے باقاعدہ اور آزادانہ انسانی دورے بحال کیے جائیں، جس میں ڈاکٹر حسام ابو صفیہ سرفہرست ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے اسٹیج پر کئی قومی اور سیاسی شخصیات شرکت کریں گی، جن میں فلسطین فورم برطانیہ سے طارق اللبادی، ’اسٹاپ دی وار‘ (جنگ روکو) اتحاد سے لنڈسے جرمین، اسلامک ایسوسی ایشن آف برٹن سے رغد التکریتی، فلسطین یکجہتی مہم سے پیٹر لیری، جوہری تخفیفِ اسلحہ مہم سے سوفی بولٹ، ’ریڈ ربنز‘ مہم سے نادیہ حوا، غزہ سے تعلق رکھنے والی ماہرِ تعلیم اور صحافی ڈاکٹر ہالہ حنینہ، برطانوی-فلسطینی اداکارہ اور مصنفہ سارہ آغا، اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ جیرمی کوربن شامل ہیں۔
اپنے بیان کے آخر میں فورم نے اس بات پر زور دیا کہ اس مارچ میں شرکت برطانوی فیصلہ سازوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ عوامی رائے غزہ کی پٹی میں ہونے والے واقعات پر خاموش نہیں رہے گی اور فلسطینی عوام کے لیے انصاف اور آزادی کا مطالبہ جاری رکھے گی۔
The post لندن میں فلسطین کے حق میں قومی مارچ، غزہ پر جارحیت روکنے کے لیے مظاہرے میں عوام کی بڑی تعداد شریک appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


