حوزہ/عباسی دور میں اگرچہ سلطنت مضبوط ہوئی، دولت اور ظاہری علم و ثقافت میں اضافہ ہوا، مگر اس کے باطن میں فکری و عقیدتی انتشار، ظلم اور جبر کی فضا قائم رہی۔ عباسی حکمرانوں کی سخت اور جابرانہ پالیسیوں نے اہلِ بیتؑ اور حقیقی اسلامی تعلیمات کے مبلغین کے لیے حالات نہایت دشوار بنا دیے۔ اس دور میں علم کی سرپرستی دراصل اقتدار کے استحکام کا ذریعہ تھی، جبکہ حق کی آواز کو دبایا جا رہا تھا۔


