شیعہ نیوز: حماس کے سیاسی دفتر کے نئے سربراہ خلیل الحیہ نے اپنی پہلی تقریر میں غزہ کے عوام کی مشکلات کم کرنے، فلسطینی قومی اتحاد کو فروغ دینے، جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد اور مسئلہ فلسطین کی حمایت کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کا راستہ بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی دفتر کے نئے سربراہ خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ حماس فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ کے شہریوں کے دکھ درد کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ راستوں پر اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
تفصیلات کے مطابق اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی تقریر میں انہوں نے کہا کہ حماس اپنے شہداء اور شہید قائدین کے راستے پر ثابت قدم رہے گی۔ تحریک ہر سطح پر ایسے اقدامات کرے گی جن سے ان کی مشکلات اور تکالیف میں کمی آئے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا دفاع حماس کی ذمہ داری ہے، جبکہ مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے کے عوام اور دنیا بھر میں فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والے تمام آزاد انسانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں : صرف فوجی طاقت سے پائیدار استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا، سعودی وزیر خارجہ
خلیل الحیہ نے کہا کہ غزہ کے عوام کو باوقار زندگی کی فراہمی فلسطینی قوم کا بنیادی حق ہے اور یہ حماس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ مقاومت غزہ، مغربی کنارے، بیت المقدس اور فلسطینی قیدیوں کے مسئلے پر اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ حماس کی ایک اہم ترجیح فلسطینی قومی اتحاد کا قیام ہے، اسی مقصد کے تحت تحریک تمام فلسطینی جماعتوں کے ساتھ تعاون اور مکالمے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے پی ایل او سمیت تمام فلسطینی دھڑوں سے قومی مذاکرات شروع کرنے کی بھی دعوت دی۔
حماس کے نئے سربراہ نے کہا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا لازمی حصہ ہے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور عوام کی مشکلات کا خاتمہ تحریک کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
خلیل الحیہ نے کہا کہ حماس اپنے اسلامی ماحول اور امتِ مسلمہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے اور اس کے دروازے امتِ مسلمہ کے تمام طبقات کے لیے کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فلسطینی عوام کا امن و استحکام ہی پورے خطے کے امن و استحکام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ اگر وہ غزہ کے بچوں کے تحفظ میں ناکام رہتی ہے تو انصاف کے تمام دعوے بے معنی ہوجائیں گے۔
خلیل الحیہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت اور جدوجہد بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوگی، خواہ اس کے لیے طویل وقت ہی کیوں نہ درکار ہو۔
انہوں نے فلسطین کی حمایت کرنے والے تمام ممالک اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بالخصوص یمن، لبنان، عراق اور ایران کا ذکر کیا اور کہا کہ ان ممالک نے مشکل وقت میں فلسطینی عوام کا ساتھ دیا۔
انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دنیا بھر میں فلسطینی عوام کے حق میں جاری عوامی تحریکوں سے اپیل کی کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کی مکمل بحالی تک اپنی حمایت جاری رکھیں۔
The post فلسطینی عوام کے دکھ درد کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، خلیل الحیہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


