شیعہ نیوز: تقریبا 600 سابق فوجی، انٹیلی جنس اور سفارتی عہدیداروں نے کہا کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد خطے کو مزید سنگین بحران سے دوچار کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے تقریبا 600 سابق اعلی فوجی، انٹیلی جنس اور سفارتی حکام نے امریکی صدر کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے مغربی کنارے میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
گارڈین کے مطابق یہ خط اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے متوقع دورہ امریکہ سے قبل ارسال کیا گیا، جس میں مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر خبردار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی آئی اے ای اے پر تنقید، بنیادی منشور پر عمل درآمد کا مطالبہ
خط پر سابق اسرائیلی فوج، موساد، شاباک اور وزارت خارجہ کے متعدد سابق اعلی عہدیداروں کے دستخط موجود ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آبادکاروں کے حملے 7 اکتوبر جیسے واقعات سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔
خط میں امریکی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی آبادکار مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کے گھروں، زرعی اراضی اور املاک پر حملے کرتے رہتے ہیں، جس کے باعث مسلسل جانی و مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔
The post سابق صہیونی حکام کا ٹرمپ کو خط، مغربی کنارے کی صورت حال پر انتباہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


