شیعہ نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پارلیمانی لیڈر، ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری نے خلیجی ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، کویت اور دیگر عرب ممالک سے پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کے معاملے پر حکومت سے مکمل، شفاف اور دوٹوک وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر کے ذریعے اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یکم مارچ 2026ء تک خلیجی ممالک سے 21,951 پاکستانی شہری ڈی پورٹ ہو چکے ہیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ تعداد مکمل معلوم نہیں ہوتی۔ اس لیے حکومت تمام متاثرہ پاکستانیوں کا ملک وار، مستند اور جامع ڈیٹا قومی اسمبلی میں پیش کرے اور یہ بھی واضح کرے کہ ان شہریوں کو کن وجوہات اور قانونی بنیادوں پر ڈی پورٹ کیا گیا۔
انجینئر حمید حسین طوری نے کہا کہ یہ معاملہ محض اعداد و شمار کا نہیں بلکہ ہزاروں پاکستانی خاندانوں کے روزگار، مستقبل، عزتِ نفس اور بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔ حکومت کو یہ وضاحت بھی کرنی چاہیے کہ ان افراد میں کتنے ایسے پاکستانی شامل ہیں جن کے ویزے یا اقامے ختم ہو چکے تھے، کتنے قانونی یا انتظامی معاملات کی وجہ سے واپس بھیجے گئے اور کتنے شہری دیگر وجوہات کی بنا پر جبری طور پر بے دخل ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ کئی پاکستانی برسوں کی محنت سے خلیجی ممالک میں کاروبار، جائیدادیں اور دیگر اثاثے بناتے ہیں۔ اگر کسی شہری کو اچانک ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑے تو اس کے پیچھے رہ جانے والی جائیداد، کاروبار، بینکنگ اور دیگر مالی معاملات بھی ایک اہم انسانی اور قانونی مسئلہ بن جاتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ متعلقہ ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے ذریعے متاثرہ شہریوں کے اثاثوں اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر سفارتی و قانونی اقدامات کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن پاکستانیوں کے ویزے یا اقامے بے دخلی کے باعث ختم ہو گئے ہیں، حکومت متعلقہ ممالک سے سفارتی سطح پر بات کرے تاکہ جہاں قانونی طور پر ممکن ہو، ان کے ویزوں کی تجدید اور دوبارہ داخلے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اسی طرح جو افراد برسوں تک ان ممالک میں روزگار سے وابستہ رہے، ان کے لیے متعلقہ حکومتوں، کمپنیوں اور کاروباری اداروں سے رابطہ کرکے دوبارہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : سی ٹی ڈی کے مختلف شہروں میں 117 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز 18 تکفیری وہابی دہشتگرد گرفتار
ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی محض بیرونِ ملک مقیم افراد نہیں بلکہ پاکستان کے قیمتی قومی اثاثے ہیں۔ وہ اپنی محنت سے نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے مسائل کو محض ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی تعداد تک محدود کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق، روزگار، ویزوں، جائیدادوں اور کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور مستقل پالیسی تشکیل دی جائے، جبکہ بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو بھی متاثرہ شہریوں کی بروقت قانونی اور سفارتی معاونت کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کی جائے۔
انجینئر حمید حسین طوری نے کہا کہ حکومت کو قومی اسمبلی میں ملک وار مکمل اعداد و شمار، بے دخلی کی وجوہات، متاثرہ پاکستانیوں کے اثاثوں کی صورتحال اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات پیش کرنی چاہییں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے حقوق اور وقار کے تحفظ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بیرونِ ملک مشکلات کا شکار ہر پاکستانی کے ساتھ کھڑی ہو اور سفارتی، قانونی اور انتظامی سطح پر ہر ممکن اقدام کرے،اوورسیز پاکستانیوں کا تحفظ صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ریاست کی اپنے شہریوں کے ساتھ ذمہ داری ہے، اور حکومت کو اس ذمہ داری کو سنجیدگی، شفافیت اور عملی اقدامات کے ساتھ پورا کرنا ہوگا۔
The post پارلیمانی لیڈر ایم ڈبلیوایم انجینئرحمید حسین کا اوورسیز پاکستانیوں کی بے دخلی کےمعاملے پرحکومت سے جامع پالیسی اور عملی اقدامات کا مطالبہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


