spot_img

ذات صلة

جمع

سوات میں نو سالہ بچی سے جنسی زیادتی کا واقعہ، سپاہ صحابہ کا مولوی گرفتار

شیعہ نیوز: سوات میں ایک کمسن بچی سے مبینہ زیادتی کے واقعے میں مسجد سے ایک قاری کی گرفتاری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب مسجد یا مدرسے سے وابستہ کسی فرد پر کمسن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی یا تشدد کے سنگین الزامات سامنے آئے ہوں۔

گزشتہ برس سوات کے ایک غیر رجسٹرڈ مدرسے میں کمسن طالب علم کی ہلاکت کے معاملے میں قاری عمر سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن پڑھانے، دینی تعلیم دینے یا مذہبی منصب کی آڑ میں کسی معصوم بچے یا بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا ہے تو کیا یہ صرف ایک جرم ہے یا مذہب اور دینی تعلیمات کی توہین بھی ہے؟

یہ بھی پڑھیں : اگر معاشی جنگ جاری رہی تو ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں ہوگا، محسن رضائی

جو لوگ توہینِ مذہب کے نام پر فوری ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں ایسے واقعات پر بھی اتنی ہی سنجیدگی سے آواز اٹھانی چاہیے۔ مسجد، مدرسہ یا مذہبی لباس کسی فرد کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔

بچوں کی عزت، جان اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔ کسی بھی شخص پر الزام ہو تو شفاف تحقیقات، قانونی کارروائی اور عدالت کے ذریعے فیصلہ ہونا چاہیے، جبکہ مجرم ثابت ہونے والے افراد کو سخت ترین قانونی سزا ملنی چاہیے۔

مذہب کے نام پر بچوں کے ساتھ زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں، اور ایسے جرائم کو خاموشی، اثر و رسوخ یا مذہبی تقدس کی آڑ میں دبانا بھی ناقابلِ قبول ہے۔

The post سوات میں نو سالہ بچی سے جنسی زیادتی کا واقعہ، سپاہ صحابہ کا مولوی گرفتار appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img