شیعہ نیوز: مصر اور چین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینی نصب العین مشرق وسطیٰ کے مسائل کے مرکز میں برقرار ہے جبکہ انہوں نے دو ریاستی حل پر مبنی ایک عادلانہ اور پائیدار حل تک پہنچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ بیانات مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی سرکاری بات چیت کے اختتام پر سامنے آئے جن میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بات چیت کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان کے مطابق دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے چار جون سنہ 1967ء کی سرحدوں پر ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت ہے جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو جبکہ کسی بھی بہانے یا نام کے تحت فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے تمام منصوبوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعییناتی میں مزید توسیع
انسانی امور کے ضمن میں دونوں فریقوں نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو پائیدار بنانے اور بغیر کسی رکاوٹ کے فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جلد از جلد غزہ کی پٹی میں فلسطینی اتھارٹی کی واپسی کی حمایت پر بھی زور دیا گیا۔
قاہرہ اور بیجنگ نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی کشیدگی کے جاری رہنے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ ان کا بنیادی فوکس یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں، زمینوں پر قبضے اور یہودی بستیوں کی توسیع پر تھا۔
اسی تناظر میں مشترکہ بیان میں فلسطینی سرزمین کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی شدید ضرورت پر زور دیا گیا اور اقوام متحدہ کے فلاحی ادارے برائے مہاجرین یعنی “انروا” کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا نیز اس کے کام کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور اس کے دائرہ اختیار کی حفاظت کرنے نیز اس پر کسی قسم کی دست درازی نہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
The post مصر اور چین دو ریاستی حل پر قائم ، فلسطینیوں کی بے دخلی مسترد appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


