spot_img

ذات صلة

جمع

ایران نے امریکہ کا فوجی غرور توڑ دیا، لبنانی تجزیہ کار

شیعہ نیوز: لبنانی عسکری ماہر کے مطابق ایران نے...

اسرائیل میں شدید اقتصادی بحران، عوامی قرض 1.4 ٹریلین شیکل سے تجاوز کرگیا

شیعہ نیوز: غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف جنگوں...

ایران کے خلاف جنگ ناکام ہو چکی، امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس رہنما

شیعہ نیوز: امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے رہنما...

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعییناتی میں مزید توسیع

شیعہ نیوز: امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسٹھ نے مشرق...

ایران نے امریکہ کا فوجی غرور توڑ دیا، لبنانی تجزیہ کار

شیعہ نیوز: لبنانی عسکری ماہر کے مطابق ایران نے براہ راست فضائی یا بحری جنگ کے بجائے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل دباؤ میں ڈال کر واشنگٹن کو طویل جنگ میں پھنسا دیا۔

رپورٹ کے مطابق ایک معروف لبنانی عسکری تجزیہ کار نے ایران کی جنگی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے فوجی غرور اور فوری فتح کے اندازے کو شکست دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، خطے کی حالیہ صورت حال اور امریکہ کی مسلسل جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کا تجزیہ کرتے ہوئے لبنانی بریگیڈیئر جنرل اکرم سریوی نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرکے خود کو ایک ایسی طویل جنگ میں داخل کر لیا ہے جو اس کے وسائل اور گولہ بارود کو ختم کر رہی ہے اور امریکی فوجی و مالی نقصانات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

اکرم سریوی نے یمن کے المسیّرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپشن پر امریکہ میں دوبارہ غور کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی حکومت اور فوجی اداروں کے اندر جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سیریک میں جنگی جرم نے ثابت کردیا کہ امریکی تمدن، سنوری ہوئی درندگی کے سوا کچھ بھی نہیں، آیت اللہ آملی لاریجانی

ان کے مطابق امریکی فوج کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں نے حکومت کو جنگ کو جاری رکھنے کی مشکلات سے آگاہ کیا ہے۔

لبنانی تجزیہ کار نے کہا کہ امریکی اعلی فوجی افسران میدان جنگ کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور فوجی و مالی دباؤ، خصوصاً میزائلوں اور گولہ بارود کے استعمال میں اضافے نے واشنگٹن کے لیے بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا فضائی دفاعی نظام بھی اس وقت ایک بڑے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

سریوی کے مطابق امریکی جنگی حکمت عملی اور فوجی نظریہ ہمیشہ اس بنیاد پر استوار رہا ہے کہ جنگ کو محدود رکھا جائے اور اسے کم سے کم وقت میں ختم کیا جائے، لیکن ایران کے جوابی حملوں نے صورت حال کو تبدیل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا کر جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا، جن میں کویت، عراق، بحرین، متحدہ عرب امارات اور اردن بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق ایران کے وسیع پیمانے پر کیے گئے حملوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے لیے ایک مشکل امتحان پیدا کر دیا ہے اور مسلسل کم ہوتے دفاعی گولہ بارود کے ذخائر کے باعث واشنگٹن کی اپنے فوجیوں اور تنصیبات کے تحفظ کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

لبنانی عسکری ماہر نے کہا کہ جدید دور میں کسی جنگ کا نتیجہ صرف اس بنیاد پر طے نہیں ہوتا کہ کس فریق کے پاس زیادہ جدید ہتھیار ہیں، بلکہ لچک، مزاحمت اور طویل جنگ کو منظم کرنے کی صلاحیت بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔

ان کے مطابق ایران کی حکمت عملی دشمن پر جنگی دباؤ بڑھانے اور جنگ کو فرسایشی مرحلے میں لے جانے پر مبنی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی تعداد استعمال کرکے امریکی فضائی دفاعی نظام کو مسلسل مصروف اور دباؤ میں رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دشمن کی طاقت اور کمزوریوں سے بخوبی واقف ہے اور براہ راست فضائی یا بحری محاذ آرائی کے بجائے امریکی دفاعی صلاحیتوں کو بتدریج کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اکرم سریوی کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست فضائی یا بحری جنگ میں داخل ہونے کے بجائے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی دفاعی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی نے امریکی دفاعی صلاحیتوں پر دباؤ بڑھایا اور دونوں فریقوں کے درمیان جاری محاذ آرائی کی نوعیت میں نئے عوامل شامل کر دیے ہیں۔

لبنانی تجزیہ کار نے کہا کہ اس جنگ میں امریکہ کی نمایاں غلطیوں میں سے ایک فوجی غرور اور جنگ کے دورانیے کے بارے میں غلط اندازہ تھا۔

ان کے مطابق واشنگٹن نے یہ سمجھا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ مختصر ہوگی اور امریکہ جلد فتح حاصل کر لے گا، لیکن اس کے برعکس امریکہ خود کو ایک ایسی طویل جنگ میں پھنسا ہوا دیکھ رہا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں۔

سریوی نے کہا کہ امریکہ بعض حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت تو رکھتا ہے، لیکن ایران کے خلاف ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت اس کے لیے محدود ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی ایک بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے ایران کے حوالے سے وینزویلا جیسے منظرنامے کی توقع کر رکھی تھی، یعنی یہ خیال کہ ایران پر دباؤ ڈال کر تیزی سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

لبنانی تجزیہ کار کے مطابق موجودہ صورت حال نے ظاہر کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف طویل جنگ کے نتائج امریکہ کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

The post ایران نے امریکہ کا فوجی غرور توڑ دیا، لبنانی تجزیہ کار appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img