حوزہ/اللہ تعالیٰ کی بندوں کے بارے میں ایک نہایت اہم اور اٹل سنت یہ ہے کہ وہ گمراہ لوگوں کو فوراً گرفت میں نہیں لیتا، بلکہ کبھی انہیں مہلت دیتا ہے، ڈھیل دیتا ہے، دنیاوی نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی اس ظاہری خوش حالی کو کامیابی اور اپنے انحراف کو کمال سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی استدراج ہے؛ یعنی انسان کو بتدریج، قدم بہ قدم، نعمتوں کی سیڑھی سے غفلت اور ہلاکت کی گہرائیوں کی طرف اتارا جانا۔


